حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 48
بیسویں سورت کی نقل لینی چاہی۔(نورالدّین طبع سوم صفحہ ۲۳۵) کوئی فرماں برداری بدوں فرمان کے نہیں ہو سکتی۔اور کوئی فرمان اس وقت تک عمل کے نیچے نہیں آتا۔جب تک کہ اس کی سمجھ نہ ہو۔پھر اس فرمان کے سمجھنے کے لئے کسی معلّم کی ضرورت ہے اور الہٰی فرمان کی سمجھ بدوں کسی مزکّی اور مطہرا لقلب کے کسی کو نہیں آتی کیونکہ ۔خدا تعالیٰ کا حکم ہے پس کیسی ضرورت ہے امام کی۔کیسی مزکّی کی۔میں تمہیں اپنی بات سناؤں۔تمہارا کنبہ ہے۔میرا بھی ہے تمہیں ضرورتیں ہیں۔مجھے بھی آئے دن اور ضرورتوں کے علاوہ کتابوں کا جنون لگا رہتا ہے۔مگر اس پر بھی تم کو وقت نہیں ملتا۔کہ یہاں آؤ۔موقعہ نہیں ملتا کہ پاس بیٹھنے سے کیا انوار ملتے ہیں۔فرصت نہیں۔رخصت نہیں سنو! تم سب سے زیادہ کمانے کا ڈھب بھی مجھے آتا ہے۔شہروں میں رہوں۔تو بہت سا روپیہ کما سکتا ہوں مگر ضرورت محسوس ہوتی ہے بیمار کو ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی لْبَرِّ وَ الْبَحْرِ کا زمانہ ہے۔میرے لئے تو یہاں سے ایک دم بھی باہر جانا موت کے برابر معلوم ہوتا ہے۔تم شاید دیکھتے ہو گے کہ یہاں کھیت لہلہا رہے ہیں دنیا اپنے کاروبار میں اسی طرح مصروف ہے۔مگر میرا ایک دوست لکھتا ہے۔کہ وباء کے باعث گاؤں کے گاؤں خالی ہو گئے ہیں۔بے فکر ہو کر مت بیٹھو۔خدا کے دردناک عذاب کا پتہ نہیں۔کس وقت آ پکڑے۔غرض تو اس وقت سخت ضرورت ہے اس امر کی کہ تم اس شخص کے پاس بار بار آؤ۔جو دنیا کی اصلاح کے واسطے آیا ہے۔تم نے دیکھ لیا ہے۔کہ جو شخص اس زمانہ میں خدا کی طرف سے آیا ہے۔وہ أَبْکَمْ نہیں ہے بلکہ علیٰ وجہ البصیرت تمہیں بلاتا ہے۔تم چاہتے ہو کہ اشتہاروں اور کتابوں ہی کو پڑھ کر اٹھا لو۔اور انہیں ہی کافی سمجھو۔میں سچ کہتا ہوں میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہرگز نہیں! کیا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہؓ نے بے فائدہ اپنے وطنوں اور عزیز و اقارب کو چھوڑا تھا۔پھر تم کیوں اس ضرورت کو محسوس نہیں کرتے۔کیا تم ہم کو نادان سمجھتے ہو جو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں؟ کیا ہماری ضرورتیں نہیں؟ کیا ہم کو روپیہ کمانا نہیں ٓتا ؟ پھر یہاں سے ایک گھنٹہ غیر حاضری بھی کیوں موت معلوم ہوتی ہے ؟ شاید اس لئے کہ میری بیماری بڑھی ہوئی ہو؟ دعاؤں سے فائدہ پہنچ جاوے تو پہنچ جاوے! مگر صحبت میں نہ رہنے سے تو کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا !مختلف اوقات میں ٓنا چاہیئے! بعض دن ہنسی ہی میں گزر جاتا ہے اس لئے وہ شخص جو اسی دن آ کر چلا گیا۔وہ کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم جب عورتوں میں بیٹھے ہوئے قصّہ کر رہے ہوں گے اس وقت جو عورت آئی ہو گی۔تو حیران ہی ہو کر گئی ہو گی۔غرض میرا مقصد یہ ہے کہ میں تمہیں توجہ دلاؤں کہ تم یہاں بار بار آؤ اور مختلف اوقات میں آؤ۔(الحکم ۱۵؍ اپریل ۱۹۰۱ء صفحہ ۳)