حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 501
ہوتا ہے۔مثلاً ایک کسی غریب کے گھر جا کر سوال کرے تو وہ اُس کو ایک روٹی کا ٹکڑا دیدیتا ہے۔اس کی طاقت اتنی ہی ہے۔کیکن جب ایک امیر کے گھر جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کو کچھ دیدو تو اس کے کچھ سے مراد تین چار روٹیاں ہوتی ہیں۔اور میں نے دیکھا ہے کہ جب بادشاہ کہتا ہے کہ کچھ دے دوتو اس کے کچھ سے مراد دس بیس ہزار روپیہ ہوتا ہے۔اس سے عجیب بات پیدا ہوتی ہے۔جس قدر کسی کا حوصلہ ہوتا ہے اسی کے موافق اس کی عطا ہوتی ہے۔اب اس پر قیاس کر لو۔یہاں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ہم نے بہت کچھ دیا ہے۔اﷲ تعالیف کی ذات کی کبریائی ، اس کی عظمت و جبروت پر نگاہ کرو، اور پھر اس کے عطیہ کا تصوّر ! دیکھو ایک چھوٹی سی شمع سورج اس نے بنایا ہے، اس کی روشنی کسی عالمگیر ہے، ایک چھوٹی سی لالٹین چاند ہے اس کی روشنی کو دیکھو، کس قدر ہے ، کنوؤں سے پانی نکالنے میں کس قدر جد و جہد کرنی پڑتی ہے۔مگر اﷲ تعالیٰ کی عطا پر دیکھو کہ جب وہ بارش برساتا ہے تو پھر کس قدر دیتا ہے۔غرض یہ سیدھی سادھی بات ہے اور ایک مضبوط اصل ہے جس قدر کسی کا حوصلہ ہو۔اسی قدر وہ دیتا ہے۔پس اﷲ تعالیٰ کی عظمت کے لحاظ سے اب اس لفظ پر غور کرو کہ ہم نے بہت کچھ دیا ہے۔خدا کا بہت کچھ وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا۔اور پھر اس کا اندازہ میری کھوپری کرے؟ یہ احمقانہ حرکت ہو گی! اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے اس وقت کوئی کوشش کرے کہ وہ پانی کے ان قطرات کو شمار کرنے لگے جو آسمان سے برس رہے ہیں۔ہاں یہ بے شک انسانی طاقت کے اندر ہرگز نہیں کہ جو کچھ رسول اﷲ علیہ وسلم سے محبت ہے اور آپ کی عظمت کا علم بھی مجھے دیا گیا ہے۔اس لئے میں اندازہ تو ان عطیات کا نہیں کر سکتا لیکن ان کو یوں سمجھ سکتا ہوں۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے کہ باپ انتقال کر گیا۔اور چلنے ہی لگے تھے کہ ماں کا انتقال ہوا۔کوئی حقیقی بھائی آپ کا تھا نہیں۔چنانچہ اسی کے متعلق فرمایا: اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا ( الضحٰے: ۷) ہم نے تجھے یتیم پایا اس یتیم کو جسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ہم نے بہت کچھ دے دیا۔خاتم الانبیاء خاتم الرسلؐ۔سارے علوم کا مالک، ساری سلطنتوں کا بادشاہ بنا دیا۔آپؐ کی عادت شریف تھی کہ کبھی جو بے انتہا روپیہ مالیہ کا آیا ہے تو مسجد میں ہی خرچ کر دیا۔غرض غور کرو کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے بہت کچھ دیدیا۔کس قدر خیرِ کثیر آپ کو دی گئی ہے۔آپ کا دامنِ نبوّت دیکھو تو وہ قیامت تک وسیع ہے کہ اب کوئی نبی نیا ہو یا پرانا۔آہی نہیں سکتا۔کسی دوسرے