حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 500 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 500

اُسے سُنانا چاہتا ہوں اور خدا کے لئے۔پھر مجھے حکم ہوا ہے کہ تم مسجد میں جا کر نماز پڑھا دو اس حکم کی تعمیل کے لئے کھڑا ہوتا ہوں اور سناتا ہوں۔میں دنیا پرست واعظوں کا دشمن ہوں، کیونکہ ان کی اعراض محدود، ان کے حوصلے چھوٹے۔خیالات پست ہوتے ہیں۔جس واعظ کی اغراض دینی ہوں وہ ایک ایسی زبردست اور مضبوط چٹان پر کھڑا ہوتا ہے کہ دنیوی واعظ سب اس کے اندر ا جاتے ہیں۔کیونکہ وہ ایک امر بالمعروف کرتا ہے۔ہر بھلی بات کا حکم دینے والا ہوتا ہے اور ہر بُری بات سے روکنے والا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف کو اﷲ تعالیٰ نے مھیمن فرمایا۔یہ جامع کتاب ہے جس میں جیسے ایک ملٹری (فوجی) واعظ کو فتوحات کے طریقوں اور قواعد جنگ کی ہدایت ہے۔ویسے ہی نظامِ مملکت اور سیاستِ مُدن کے اصول اعلیٰ درجہ کے بتائے گئے ہیں۔غرض ہر رنگ اور ہر طرز کی اصلاح اور بہتری کے اصول یہ بتلاتا ہے۔پس قرآن کریم جیسی کتاب کا واعظ ہوں جو تمام خوبیوں کی جامع کتاب ہے اور جو سُکھ اور تمام کامیابی کی راہوں کی بیان کرنیوالی ہے۔اور اسی کتاب میں یہ چھوٹی سی سورت میں نے پڑھی ہے۔میں اس سورت کے مطالب بیان کرنے سے پہلے یہ بات بھی تمہارے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن شریف کا طرزِ بیان دو طرح پر واقع ہوا ہے۔بعض جگہ تو اﷲ تعالیٰ ایک فعل کو واحد متکلم یعنی مَیں کے لفظ کے ساتھ بیان فرماتا ہے اور بعض جگہ جمع متکلم یعنی ہم کے ساتھ۔ان دونوں الفاط کے بیان کا یہ سرّہے۔کہ جہاں مَیں کا لفظ ہے وہاں کسی دوسرے کا تعلق ضروری نہیں ہوتا۔لیکن جہاں ہم ہوتا ہے۔وہاں اﷲتعالیٰ کی زات۔اس کے فرشتے اور مخلوق بھی اس کام میں لگی ہوئی ہوتی ہے۔پس اس بات کو یاد رکھو۔یہاں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔بے زیب ہم نے تجھ کو دیا ہے ہر ایک چیز میں بہت کچھ۔یہاں اﷲ تعالیٰ نے ’ہم‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایسا کام ہے جیسے اس میں آپ فضل کیا ہے۔فرشتوں اور مخلوق کو بھی لگایا ہے۔’’ بہت کچھ ‘‘ کے معنی مختلف حالتوں میں۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے بہت کچھ عطا فرمایا ہے۔اب عور طلب امر یہ ہے کہ اس بہت کچھ کی کیا مقدار ہے۔تم میں سے بہت سے لوگ شہروں کے لرہنے والے ہیں جنہوں نے امیروں کو دیکھا۔بہت سے دیہات کے رہنے والے ہیں۔جنہوں نے عریبوں کو دیکھا ہے۔خدا تعالیف نے مجھے محض اپنے فضل سے ایسا موقع دیا ہے کہ مَیں نے غریبوں، امیروں کے علاوہ بادشاہوں کو بھی دیکھا ہے۔ان تینوں میں بہت برا فرق ہوتا ہے، ان کی ہر چیز میں ، ہر بات میں علیٰ قدر مراتب امتیاز