حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 493
ساتھ بڑھا۔اس نے اپنی بدبختی کا حصّہ لیا۔اور اس کا بدلہ پایا۔خواہ وہ مکّی تھا یا مدنی تھا۔خواہ ان پڑھ تھا اور خواہ اہلِ کتاب میں تھا۔گواہ عوام میں سے ہوا۔خواہ شرفاء میں سے ہوا۔سب نے اپنا بدلہ کافی پایا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے دشمنوں نے اور آپ کے ساتھ عداوت کرنے والوں میں سے ہر ایک نے اپنی قدر کے مطابق اور اپنی عداوت کے درجہ کے موافق اپنا کیا اور بویا اٹھایا اور ابتر ہوا۔سردارانِ قریس کی طرف دیکھو اور عمائدِ مکقہ کی طرف نطر کرو۔اور اس وادی کے سرداروں کی طرف نگاہ کرو اور شہر کے ارکان کا حال دیکھو۔جن کو لوگ اپنی سرداری کا تاج دیتے تھے۔اور انہوں نے تدابیر کیں اور کہا کہ اس شہر کے سرفاء ذلیل لوگوں کو یہاں سے نکال دیں گے۔پس اﷲ تعالیٰ نے تمام خیر آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کے لئے کر دی اور دشمن محروم رہے۔اور اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو تو اب فتح تمہارے لئے آ گئی ہے۔اور ان کے اموال کے متعلق فرمایا کہ قریب ہے کہ وہ اپنے مال خرج کریں گے۔پھر وہ کرچ بھی ان کے لئے موجبِ حسرت ہو گا اور وہ مغلوب ہو جائیں گے۔پس کیا تو دیکھتا ہے کہ ان دسمنوں میں سے کوئی باقی ہے۔سو دیکھو کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے دشمن بلکہ آپؐ کے خلفاء راشدین اور آپؐ کے نائبوں کے دشمن بھی ہر ایک نیکی سے ابتر ہوئے اور یہ امر ظاہر ہے۔کوئی مخفی بات نہیں۔دیکھو۔ابوجہل کا کیا انجام ہوا۔اور ابن ابی بن سلول نے کیا نتیجہ پایا۔اور پادریوں کے لارڈ بشپ ابو عامر کو دیکھو جس نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی مخالفت میں سارا زور خرچ کیا اور آگ کے گڑھے کے کنارے پر بڑی بنیاد کھڑی کی اور پھر اسی آگ میں گرایا گیا اور اکیلا آوارہ بیکس اور بے بس ویرانوں کے اندر ہلاک ہو گیا۔پھر دیکھو کہ ان لوگوں کا کیا حال ہوا۔جنہوں نے اہلِ عرب میں سے خلیفہ اوّل حصرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی مکالفت کی اور پھران کا کیا حال ہوا۔جنہوں نے حصرت فاروق رضی اﷲ عنہ کا مقابلہ کیا۔اگرچہ وہ بڑی سلطنتوں کے قیصر و کسرٰی تھے اور مصر کے ملک کے بادشاہ تھے۔اور پھر ان اہل افریقہ اور اہلِ کراسان کو کیا حاصل ہوا جنہوں نے حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کی مخالفت کی تھی۔اور اپھر انہوں نے کیا پایا جنہوں نے حصرت علی رضی اﷲ عنہ کی مخالفت کی اور ان کا کیا حال ہوا جنہوں نے معاویہ اور بنوامیّہ کی تحقیر کی۔پھر اس کی مثال زمانہ حال میں موجود ہے۔دیکھو کہ ان لوگوں کا حال کیا ہو رہا ہے جنہوں نے ہمارے اس مبارک زمانہ میں چودہویں صدی کے مجدّد اور مُتکفِّل مہدی معہود اور مسیح موعود کی مخالفت کی مثال میں آریہ لیکھرام کو دیکھو اور نصارٰی کے شیطان آتھم کو دیکھو اور لدھیانہ کے سعد اﷲ ابتر کو دیکھو۔ہر ایک اپنے گناہ کے بدلے میں پکڑا گیا۔اور اپنے بدلے کو پانے والا ہوا۔اور ان کے سوا اور بھی سب دشمن آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے اور آپ کے خلفاء کے ہر ایک چیز