حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 494
چیز سے ابتر اور بے نصیب ہیں اور ان کا ذکر خیر کے ساتھ ہونا بند ہو جاتا ہے اور ان کا اہل اور مال ابتر ہو جاتا ہے۔اور دین و دنیا میں نقصان پزیر ہوتا ہے۔ان کی حیاتی اور ان کی صحت اور ان کی فرصت سب ابتر ہوتی ہیں۔وہ ان چیزوں سے نہ دنیا میں فائدہ اٹٍا سکتا ہے اور نہ دین میں۔ان کے کان ایسے نہیں رہتے کہ وہ خیر کی بات سن سکیں۔اور نہ ان کو ایسی بصیرت نصیب ہوتی ہے کہ اﷲ کو دیکھ کر اﷲ تعالیٰ کی محبت۔معرفت اور ایمان میں ترقی کر سکیں اور وہ اس بات سے مہروم رکھے جاتے ہیں کہ ان کا کوئی ناصر اور مددگار ان کے اعمالِ صالح میں سے ہو اور اس بات محروم ہوتے ہیں کہ ایمان کی شیرینی کو چکھ سکیں۔اور اگرچہ وہ لوگوں میں ائیں باہم ان کا دل جنگل میں بھاگے ہوئے آوارہ کی طرح اکیلا ہوتا ہے۔یہی جزا ان لوگوں کو ملی جنہوں نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر نزال سدہ وحی کے ساتھ عداوت کی اور اپنی حرص و ہوا کی پیروی کی۔سب کا حال یہی ہوا۔خواہ وہ بڑا تھا یا چھوٹا تھا۔امیر تھا یا غریب تھا۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔کہ ان لوگوں کو کہہ دو کہ اگر تم اﷲ تعالیٰ کے ساتھ محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔خدا تمہارے ساتھ محبت کرے گا۔پس ہم نے تجھے کوثر عطا کی ہے پہلے سے اور تسلّی کے لئے اس سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے دل کو اور آپ کے خلفاء کے دل کو قوت ملی۔اور ان کے نفسوں سے کمزوری کو دور کیا گیا تاکہ ان کو اس امر پر قوّت عطا کی جائے کہ اپنے مکالفوں کی تکفیر کریں۔خواہ وہ دنیا جہان میں کوئی ہو اور کہیں ہو اور ان کے قصبوں سے بیزاری کا اظہار کریں۔پس دیکھو کہ یہ کتنی بری بخشش ہے جو برے صاحب بخشش کی طرف سے ان کے حصّہ میں آئی۔اور اس میں شک نہیں کہ اس محبت کی عظمت اس کی ذات کی قدر کے مطابق ہے جو مہدی عظیم ہے۔(اخبار بدر قادیان ۲۸؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۵۔۶ وضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۱۲ء) پس اﷲ کی کتاب کے بعد تم کس کتاب کو چاہتے ہو اور اﷲ تعالیٰ کی سنّت کے بعد کس سنّت کی پیروی کرتے ہو۔ہم نے تمہارے دلائل اور تمہارے وظائف دیکھے ہیں۔اور ہم نے اﷲ تعالیٰ کی کتاب میں اور اس کے رسولؐ کی سنّت میں تدبّر کیا ہے۔پس ہم نے کوئی شئے اس سے بہتر نہیں پائی۔جو تمہارے پاس ہے۔وہ ختم ہو جانے والا ہے۔اور جو اﷲ کے پاس ہے۔وہ باقی رہنے والا ہے۔وہ بڑی سے بڑی دعا نکالو۔جس کے معنے تم جانتے ہو۔مگر کوئی دعا تم فاتحہ کی مانند نہ پاؤ گے۔اور نہ کوئی تعوّذ تم معوذ تین کے برابر پا سکو گے۔ہرگز نہیں۔بلکہ میں قسم کھاتا ہوں کہ ہرگز نہ پاؤ گے۔