حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 466 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 466

میںخطرناک وبا پڑی اور چیچک کا مرض جو حبشیوں میں عام طور پر پھیل جاتا ہے ان پر حملہ اور ہوا اور اوپر سے بارش ہوئی۔اور اس وادی میں سیلاب آیا۔بہت سارے لشکری ہلاک ہو گئے اور جیسے عام قاعدہ ہے۔کہ جب کثرت سے مُردے ہو جاتے ہیں۔اور ان کو کوئی چلانے والا اور گاڑنے والا نہیں رہتا تو ان کو پرندے کھاتے ہیں۔اُن موذیوں کو بھی اسی طرح جانوروں نے کھایا۔یہ کوئی پہیلی اور مُعَمَّا نہیں۔تاریخی واقعہ ہے۔پر افسوس تمہاری عقلوں پر!مکّہ معظمہ کی حفاظت ہمیشہ ہوتی رہی اور ہوتی رہے گی۔کوئی تاریخ دنیا میں ایسی نہیں جو یہ بتا سکے کہ اسلام کے مدعیوں یا ابراہیمؑ کے تعظیم کرنیوالوں کے سوا کوئی اور بھی اس کا مالک ہوا ہو۔یونانی سکندر بگولہ کی طرح یونان سے اٹھ کر تمہارے ملک میں پہنچا اور اسے پامال کیا۔اور رچرڈ سارے یورپ کے ساتھ اسلام کی بربادی کو اٹھا اور نپولین مصر تک پہنچ گیا۔مگر عرب کی فتح سے سب ناکام اور نامراد رہے۔اس میں خدا ترسوں کے لئے بڑے نشان ہیں۔پہلا بابل میں ہلاک ہوا اور دوسرا ملک شام سے نامرادواپس ہوا اور تیسرا سینٹ ہلینا کے قلعہ میں بے انتہاء حسروتوں کو دل میں لے کر مرا! تمہارے آریہ ورت کو ہم دیکھتے ہیں کہ اہلِ اسلام اس کے مالک ہوئے یا اُن کے ساتھی اب اہلِ کتاب ہیں! تمہارے ہریؔدوار اور کاشی وغیرہ کی حکومت دوسروں کے قبصہ میں ہے! تمہارا کوئی معبد غیر مفتوح نہیں رہا۔غیر قوموں کے گھوڑوں کے سُموں نے سدا انہیں پامال کیا۔یہ عجائبات اور معجزات ہیں۔(نور الدّین طبع سوم صفحہ۱۶۱۔۱۶۳)