حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 467
سُوْرَۃِ قُرنیْشٍ مَکِّیَّۃٌ ۲ تا ۵۔۔۔۔۔اس سورۃ شریف میں جو یہ حکم ہوا ہے کہ اس گھر کے ربّ کی عبادت کرو۔جس نے تم کو بھوک سے غنی کرنے کے لئے کھانا کھلایا۔یہ آیت شریف حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰث والسلام والبرکات کی اس دُعا کے مطابق ہے کہ میرے پروردگا اس شہر کو امن کی جگہ بنا۔اس دعائے ابراہیمی ؑ کی قبولیت کے سبب قریش بڑے عیش و آرام میں زندگی بسر کرتے تھے۔حالانکہ ان کے گرد و نواح کی مخلوق ہلاکت میں پڑی ہوئی تھی اسی مضمون کی طرف اﷲ تعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں سورۃ نحل میں بھی اسارہ فرمایا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے ایک گاؤں کی مثال بیان فرمائی ہے جس کے باشندے اطمینان کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔ہر طرف سے اس کو رزق بافراغت پہنچتا تھا۔پھر ان لوگوں نے اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی جس پر خدا نے ان پر بھوک اور خوف کا عذاب وارد کیا۔جو ان کی اپنی بدعملیوں کا نتیجہ تھا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۶؍ستمبر۱۹۱۲ء) : اُلفت دلانے کے لئے اس گھر کے ربّ کے ساتھ الفت دلانے کے لئے اصحاب الفیل کو اس واسطے قتل کیا گیا۔اور شکست دی گئی اور خائب و خاسر واپس کیا گیا ہے۔کہ قریس اور اہلب عرب کا یقین تازہ ہو کہ اس گھر کی حفاظت اﷲ تعالیٰ خود کرتا ہے۔اس طرح وہ خدا تعالیٰ کی خالص عبادت میں مسغول ہوں اور قریس جو موسمِ سرما و گرما میں سفر پر جاتے تھے۔اور تمام بلاد کے بادشاہ اور تجاّر ان کی عزّت کرتے تھے۔اس تجارت اور سفر میں فرق نہ آوے بلکہ ان کی عزّت اَور بھی زیادہ ہو۔