حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 465 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 465

جب وہ لشکر لے کر دشمنوں پر چرھتا تو پرندوں کے غولوں کے غول دشمنوں کی لاشوں کے کھانے کو جمع ہو جاتے ہیں۔ایک مولوی صاحب نے اس موقعہ پر ایک شعر لطیف لکھا ہے۔وہ ہمارے جواب کے ساتھ بڑی مناسبت رکھتا ہے۔گو مولوی صاحب نے اس کے معنے کچھ ہی کئے ہوں مگر وہ ہماری وہ ذکر کردہ دلیل کا ہی مثبت ہے اور وہ شعر یہ ہے۔اَیْنن الْمَفَرُّ لِمَنْ عنادَاہُ مِنْ یَدِہٖ وَ الْوَحْشُ وَ الطَّیْرُ اَتْبَاعٌ تُسَائِرُہٗ یہاں طیر سے مراد وہی مُردار خور پرندے ہیں اور سباء بھی وہی مُردار خور ہیں۔جو فتحمندی کا نشان ہیں۔اسی قسم کے اندازِ بیان میں قرآن کریم میں اﷲ تعالیف اسارہ کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے دشمن ہلاک کئے جاویں گے۔جیسے فرماتا ہے: (النحل:۸۰) کیا وہ ان پرندوں کے حالات پر غور نہیں کرتے۔جنہیں ہم نے آسمان کی جوّ میں قابو کر رکھا ہے۔ہم ہی نے تو انہیں تھام رکھا ہے ( اور ایک وقت آنے والا ہے کہ انہیں نبی کریمؐ کے دشمنوں کی لاشوں پر چھوڑ دیں گے) مومنوں کے لئے ان باتوں میں نشان ہیں۔یہاں بھی پہلے ایک سریر قوم کا بیان کیا ہے۔جو بری نکتہ چینی کی عادی اور موذی تھی۔اور اسلام کو عیب لگاتی تھی۔اور بہت سے اموال جمع کر کے فتح کے گھمنڈ میں مکّہ پر انہوں نے چڑھائی کی۔یہ ایک حبشیوں کا بادشاہ تھا۔جس نے اسی سال مکقہ معظّمہ پر چڑھائی کی جبکہ حضرت رحمۃ للعالمین نبی کریمؐ پیدا ہوئے۔جب یہ شخص وادیٔ محصّر میں پہنچا۔اس نے عمائد مکّہ کو کہلا بھیجا کہ کسی معزّز آدمی کو بھیجو۔تب اہلِ مکّہ نے عبدالمطلب نامی ایک شخص کو بھیجا جو ہمارے نبی کریم صلی اﷲعلیہ وسلم کے دادا تھے۔جب عبدالمطلب اس ابرھہ نام بادشاہ کے پاس پہنچے۔وہ مدارات سے پیش آیا۔جب عبدالمطلب چلنے لگے اس نے کہا کہ آپ کچھ مانگ لیں۔انہوں نے کہا کہ میری سو اونٹنیاں تمہارے آدمیوں نے پکڑی ہیں۔وہ واپس بھیج دو۔تب اس بادشاہ نے حقارت کی نظر سے عبدالمطلب کو کہا کہ تمہیں اپنی اونٹنیوں کی فکر لگ رہی ہے۔اور ہم تمہارے اس مَعْبَد کو تباہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔عبدالمطلب نے کہا۔کیا ہمارا مولیٰ جو ذرّہ ذرّہ کا مالک ہے۔جب یہ معبد اسی کے نام کا ہے اور اسی کی طرف منسوب ہے۔وہ اس کی حفاظت نہیں کرے گا؟ اگر وہ اپنے معبد کی خود حفاظت نہیں کرنا چاہتا۔تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔آخر اس بادشاہ کے لشکر میں