حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 440
(مَنْچا کُری سرنتا) منچ پکارتے ہیں۔چونکہ منچ جڑہیں۔ان میں پکارنے کی طاقت نہیں۔اس لطے منْچ کے جاگزیں آدمی پکارتے ہیں۔پس اسی طرہ اس موقع پر بھی سمجھنا جاہیئے۔چہارمؔ۔(الزلزال:۵،۶) بیان کرے گی زمین اپنی خبریں اس لئے کہ تیرے رب نے اسے وحی کے ذریعہ حکم کیا ہے۔پس ہمہ سارتھ ( القادر) سرب شکتیمان( الغنی القادر۹ جو دوسرے کا محتاج نہیں۔اگر وہ زمین کو فرما دے کہ تُو بیان کر تو کیا وجہ ہے کہ پھر بیان نہ کر سکے؟ تم بھی تو قوٰی خدا داد سے ہی بولتے ہو۔زمین بھی قوٰی خدا داد سے بول سکتی یا بیان کر سکتی ہے۔’’تحدّث میں یہ ضرور نہیں کہ ہماری تمہاری طرح پنجابی یا اردو بولے۔ہر ایک کا بولنا اس کے مناسب حال ہوا کرتا ہے۔پھر الفاظ کی ضرورت بھی نہیں۔ایک لسان الحال اور ایک لسان الافعال بھی ہوتی ہے۔اب تم خود سمجھ لو۔کہ زمین کی لسان کس نوع کی ہے۔جس سے وہ بولے گی۔اور ظرف و مظروف کے استعارہ پر کیوں تم خود سمجھ نہیں سکتے۔(نور الدّین طبع ثالث صفحہ ۱۱۷) وحی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: کُلَّ مَا الْقَیْتَہٗ اِلٰی غَیْرِکَ فَھُوَ وَحْیٌ جو بات کسی کو پہنچائی جاوے وہ وحی ہے۔قرآن کریم میں یہ لفظ عام ہے۔حتٰی کہ زمین کی نسبت بھی فرمایا ہے۔کہ اُسے وحی ہوتی ہے۔چنانچہ فرمایا ہے۔۔اس دن وہ اپنی خبریں بیان کرے گی۔اس لئے کہ تیرے ربّ نے اُسے وحی کی۔( نور الدّین طبع سوم صفحہ ۱۶۱) ۷۔۔صُدُوْر ضد ہے وُرُوْد کا۔محصل آیت کا بلفظ دیگر یہ ہے کہ کُلُّ اِنَائٍ یَتَرَشَّحُ بِمَافِیْہِ ہربرتن سے وہی چیز ٹپکے گی جو اس ظرف میں ہو گی۔خداوند تعالیٰ کی طرف سے ملائکہ اﷲ کے ذریعہ سے وحی تو ہوئی مگر’’ ہرچہ گیرد عِلّتے علت شود‘‘ کے قاعدہ کے بموجب دابّۃ الارص یعنی زمینی کیڑے سفلی علوم کی ترقی کی طرف جھک پڑے اور خداوند تعالیٰ کے پاک روحوں کو پاک روح کے نزول سے ایسے حقائق معارف کُھلے۔کہ جو دین اور دارِ آخرت کے لئے مفید ہے۔صدور جس کے معنے لُوٹنے کے ہیں۔اس سے مراد ملائکۃ اﷲکے اثر سے متائثر ہو کر مخفی استعدادوں کو مکمن قوّت سے حیّزِ فِعل میں لانے کے ہیں۔یہی لوگوں کا صدور اور ان کا لوٹنا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍ستمبر۱۹۱۲ء)