حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 439
اسی بات کا معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات قبل از قیامِ ساعت دنیا ہی میں ہونیوالے ہیں۔کیونکہ انسان کا استعجاب سے کہنا۔دنیوی روز افزوں ترقیات و عجائبات کے ظہور کی وجہ سے ہو گا۔آخرت میں بعث بعد الموت کے وقت تو تمامی امور سب پر حق الیقین کے طور پر کُھل جاویں گے۔اس وقت انسان تعجّب کا کلمہ نہیں کہے گا بلکہ (الفجر:۲۵) کہے گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍ستمبر ۱۹۱۲ء) ۵،۶۔۔۔اہلِ ارض جس قدر اپنے اخبار اس وقت شائع کر رہے ہیں۔وہ ظاہر ہے۔جس قدر باریک در باریک علوم و فنون اہل ارص اس وقت ظاہر کر رہے ہیں۔یہ ملائکث اﷲ ہی کی تحریک کے نتائج ہیں یہ ایسی وحی ہے جیسے کہ شہد کی مکھّی (نحل) کی وحی۔وحی کے معنے حرفِ لطیف، رموزو اشارات و کنایات کے ہیں۔وحی کے تین مراتب سورۃ الشورٰی میں مَاکَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اﷲُ اِلَّا وَحْیًا (الشورٰی:۵۲) میں بیان ہوئے ہیں۔جہاں صرف لغوی معنے وحی کے مراد ہیں۔اور دوسری اور تیسری قسم وحی کی بھی لی جاوے تو بھی صحیح ہو سکتی ہے۔کیونکہ نزول ملائکہ کے ساتھ الرُّوْح کے بھی نزول کا ذکر ہے جو ملائکہ کے سردار ہیں۔اور سردار سرداروں سے ملا کرتے ہیں۔مشہور قول ہے۔کہ ’’ جیسی روح ویسے فرشتے‘‘ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍ستمبر ۱۹۱۲ء) اس آایت پر اعتراض کرتے ہوئے ایک آریہ نے اعتراض کیا کہ: ’’زمین باتیں کرے گی سورج جاند کیوں نہ کریں گے ستارے کیوں خاموش ہیں‘‘ الجواب: اوّلؔ تو سورج اور جاند کی خاموشی کا ذکر نہیں جو آپ کو اس پر تعجب ہوا۔دومؔ ستارے بھی تمہارے دیانند کے اعتقاد میں زمین ہی ہیں۔پس ان کی خاموشی بھی ثابت نہیں۔کیونکہ وہ بھی زمین ہیں یا زمین کی طرح ہیں۔پس جیسے یہ باتیں کرتے گی۔وہ بھی باتیں کریں گے۔سومؔ یہ تاتستھ اوپاد ہی ہے۔اگر تم کو اس کی سمجھ نہیں تو پڑھو۔ستیارتھ پرکاش صفحہ۲۵۴ اہم برہم اسمی کے ارتھ میں لکھا ہے۔اس موقعہ پر تاتستھ اوپاد ہی ( استعارہ ظرف و مظروف ) کا استعمال ہے۔جیسے: