حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 441 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 441

۸،۹۔۔۔پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے ان دونوں آیتوں کو جَامِعَۃٌ فَاذَّ ۃٌ فرمایا ہے۔ہر نیکی بدی کے تولنے کے لئے یہ کانٹے کی میزان ہے۔مثقال ترازو کے بٹے کے وزن کا نام ہے اور ذرّہ بہت کم مقدار چیز ہے۔جزا و سزا بھی انسان کو ہر وقت ملتی رہتی ہے۔اگر غور کرتا رہے تو بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ لازمی عمل کی یہ جزا ملی اور فلاں کی یہ۔نامۂ اعمال کے جزا و سزا کا حال بھی آنکھ کے بند ہونے پر معلوم ہو جائے گا۔ع بوقت صبح شود ہمچو روز معلومت کہ باکہ باخۃِٔ نرد و شبِ دیجور (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍ستمبر ۱۹۱۲ء) موت کی کوئی خبر نہیں اس لئے ضروری ہے کہ ہر وقت مسلمان بنے رہو۔یہ مت سمجھو کہ چھوٹے سے چھوٹے عمل کی کیا ضرورت ہے اور وہ کیا کام آئے گا۔نہیں۔خدا تعالیٰ کسی کے فعل کو ضائع نہیں کرتا۔(الزلزال:۸) ایک شخص نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مَیں جب کافر تھا تو اﷲ کی راہ میں خیرات کیا کرتا تھا۔کیا اس خیرات کا بھی کوئی نفع مجھے ہو گا۔فرمایا۔اَسْلَمْتَ عَلٰی مَا اَسْلَفْتَ تیری وہی نیکی تو تیرے اس اسلام کا موجب ہوئی۔خدا تعالیٰ پر سچّا ایمان لا، اور اس کی سچی فرماں برداری کے نمونے سے ثابت کرو۔ٹھیک یاد رکھو۔کہ ہر نیک بیج کے پھل نیک ہوتے ہیں۔بُرے بیج کا درکت بُرا پھل دے گا۔ع گندم از اگندم بروید جَو زِ جَو از مکافاتب عمل غافل مشو (الحکم ۱۷؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ ۶)