حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 438
سُوْرَۃَ الزِّلْزَالِ مَکِّیَّۃٌ ۲ تا۴۔۔۔۔زمینی تَزَلْزَل اور اور اِخراجِ اثقال کے معنے دو طرح پر ہیں۔ایک تو قیامت کو زمین کا سخت بھونچال ہونا اور تمامی مدفونوں کا باہر نکلنا اور دوسرے معنے یہ کہ الْاَرْضُ سے مراد اہلِ ارض ہیں۔جیسا کہ فَلْیَدْعُ نَادِیَہ، ( العلق :۱۸) میں نادی سے اہلِ نادی مراد ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۲؍اگست ۱۹۱۲ء) سے مراد ہے کہ خوب زور شور کی جنبش اہلِ ارض میں پیدا ہو گی۔در اصل اس سورۃ شریفہ کے الفاظ سورۃ القدر کے بیان کے مفسّر ہیں۔سورۃ القدر میں فرمایا تھا (آیت:۵) یعنی قابلِ قدر نزول ہو گا۔اس جگہ آیت نمبر۳میں فرما کر یہ ظاہر فرمایا کہ فرشتوں ہی کی تحریکات سے اہلِ ارص زمین سے ہر قسم کے اثقال باہر نکال دیں گے۔یہ اثقال معدنیات کی قسم سے بھی ہیں اور علوم و فنون کے قسم سے بھی ہیں۔جس قدر معدنیات اس وقت میں نکلے اور نکل رہے ہیں۔اس کی نظیر اگلے زمانہ میں پائی نہیں جاتی۔اور جس قدر علوم و فنون اہلِ ارض کے ہاتھوں سے ملائکۃ اﷲ کی تحریکات سے اب ظاہر ہو رہے ہیں۔اس کی بھی نظیر سابقہ زمانہ میں پائی نہیں جاتی۔چوتھی آیت میں جو ہے۔اس سے زیادہ تر رحجان اسی ب