حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 437 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 437

خود قرآن کریم نے کر دئے ہیں۔رَسُوْلٌ مِّنَ اﷲِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَھَّرَۃٌ یعنی وہ اﷲ کا موعود رسول جو ان پر پاک صحیفے پڑھتا ہے۔کتبِ مقدّسہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی جو پیسگوئی کی گئی تھی۔اس میں یہی لکھا تھا کہ میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دعا کی تھی۔اس میں بھی یہی کہا گیا تھا کہ ایسا رسول مبعوث فرما۔جو تیری آیتیں ان پر تلاوت کرے یہی وجہ ہے۔کہ قرآنِ مجید میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے ذکر میں بار بار آیا ہے۔یَتْلُوْا عَلَیْھِمٹ اٰیٰتِہٖ ( جمعہ:۳) غرض وہ کامل اور خاتم رسول آ گیا۔اور وہ پاک صحیفے ان پر تلاوت کرنے لگا۔مگر باوجود اس کے زمانہ کی حالت طبعی اور قوموں کی عملی اور اعتقادی سخت تقاضا کر رہی تھی کہ ایک زبردست رسول آئے اور خود اہلِ کتاب بھی تورات اور صحائف انبیاء اور عہدِ جدید کی پیشگوئی کے موافق منتظر تھے۔کہ مثیلِ موسٰی اور خود اہلِ کتاب بھی رتورات اور صحائف انبیاء اور عہدِ جدید کی پیشگوئی کے موافق منتظر تھے۔کہ مثیلب موسٰی اور مبسر عیسٰی ( فارقلیط) انے والا ہے۔مگر جب وہ ا گیا تو بغض و حسد سے انکار کر دیا۔حالانکہ یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ضرورتب نبوّت کے وہ قائل اور مثیلِ موسٰی اور مبشر عیسٰی کے وہ منتظر اور پھر آنیوالے نے کوئی نئی تعلیم نیا مذہب پیش نہیں کیا بلکہ اﷲ تعالیٰ کے پاک صحیفے ان پر تلاوت کرتا ہے۔اور تمام دنیا کی صداقتیں اس کی کتاب میں موجود ہیں۔فِیْھنا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ یعنی قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے کہ تمام دنیا کی الہامی کتب کی جمیع محکم اور مستقل صداقتیں اس میں موجود ہیں۔یہ آیت بتاتی ہے کہ قرآن مجید تمام کتب سابقہ پر شامل اور جامع اور مہیمن کتاب ہے اور ہر قسم کی تحریف و تبدیل ، ترمیم و تنسیخ سے پاک اور کاتم الانبیاء کی طرح خاتم الکتاب ہے۔بہر حال اس نبی نے کوئی نئی تعلیم پیس نہیں کی اور کہا کہ مَاکُنْتُ بِدْعًا مِّنن الرُّسُلِ ( الاحقاف:۱۰) اور وہی تعلیم دی جو سب نبی دیتے آئے کہ اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرو۔اخلاص کے ساتھ اپنی عملی اور اعتقادی حالت کی اصلاح کرو۔شرک چھوڑ دو۔نمازیں پڑھو اور زکوٰۃ دو۔کیونکہ یہی دین قیّم ہے اس طرح پر ان پر اتمام حجّت کیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۲؍اگست ۱۹۱۲ء)