حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 435
ٰ درجے پر ہے۔انصاف کرو۔عیسائیوں کے صرف لسانی اور کتابی اقرار کی کیا قدر کی جاوے۔جب وہ اس کے ساتھ مسیحؑ ابن مریم جیسے خاکسار بندے کے سر پر الوہیت کا تاج دھرایقین کرتے ہیں۔اگر وہ کہیں گ مسیحؑ کوئی علیحدہ اﷲ نہیں، بلکہ اسی خالقِ زمین و آسمان ، جامع صفاتب کاملہ، تمام نقائص سے منزّہ نے جس جسم کو قبول فرمایا تو مسیح ابن اﷲ کہلایا۔ذاتاً وہ ایک ہی ہے۔تو یہ بڑی سخت غلط فہمی اور غلطی ہو گی۔کیوں؟ عیسائی خدا کو بے حد اور بے انت مانتے ہیں اور اسے ہر جگہ موجود یقین کرتے ہیں۔جب اﷲ تعالیٰ بے حد ہر جگہ ہے تو وہ صرف محدود رحم مریم میں کیونکر سمایا۔جب وہ محیط کُل ہے تو جسمانی حدود نے اس کا کیسے احاطہ کیا۔اگر ابنِ مریم باعتبار مظہرالوہیت ہونے کے ابن اﷲ اور اِلٰہِ مجسّم ہے تو پھر کیوں تمام مخلوق مظہر نہیں ہو سکتی؟ اور کیوں ابن اﷲ اور ابلٰہِ مجسّم مانی نہیں جاتی۔مسیح کھاتا پیتا لڑکپن سے تیس بتیس برس کی عمر تک پہنچا۔جو کھانے پینے کا محتاج ہوا۔وہ تمام مخلوق کا محتاج ہوا۔پانی،ہوا ، چاند، سورج، مٹی نباتات، جمادات سب کی ضرورتاُسے لاحق ہوئی۔جب محتاج بنا تو خدا اصفاتِ کاملہ کا متّصف نہ رہا۔پھر عیسائی کہتے ہیں۔یہود کے ہاتھ سے پِٹا اور ان کے ٹھٹھوں میں اڑایا گیا۔آخر ایلی ایلی پکارتے جان دی۔یہ عذاب اور پھر جامع صفاتِ کاملہ اور الوہیت کا مستحق۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۲۷۔۲۸) اور نہیں حکم کئے گئے وہ لوگ مگر اس بات کا کہ عبادت و پرستش کریں اﷲ کی صرف اس لئے کہ خالص کرنیوالے ہوں اپنے دین کو۔(نور الدّین طبع ثالث صفحہ ۱۴۱)