حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 434
۵۔۔حَکم و عدَل کی بات کو بھی لوگ بَغْیًایَّیْنَھُمْ (بقرہ:۲۱۴)کی وجہ سے نہیں مان لیا کرتے۔آیث شریفہ میںدو اگلی نظیریں موجود ہیں۔اہلِ کتاب نے پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم سے پیشتر بھی بیّنہ آنے پر تفرقہ کیا اور پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے وقت کے تفرقہ کو تو نظیر ہی اگلے تفرقہ کی بتلایا ہے۔اِذَاتَثَنّٰی فَتَثَلَّثَ۔جو دو نظیریں موجود ہو تو تیسری نظیر کیوں نہ قائم ہو؟ یہ اختلاف نبی کی صداقت کی دلیل ہے۔نبی مسلّمات کو ماننے کے لئے نہیں آیا کرتے۔بلکہ کچھ اپنی منوانے کے لئے آتے ہیں۔قرآن شریف میں ۱۱۴ کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۲؍اگست ۱۹۱۲ء) ۶۔۔۔حنیف کے معنے خود ہی اس جگہ مخلص موجود ہیں۔دوسری جگہ حَنِیْفًا وَ مَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ( الانعام:۴۰) فرمایا ہے۔یہاں بھی عدم شرک جو اخلاص کے مترادف ہے۔حنیف کی صفت بیان ہوئی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۲؍اگست ۱۹۱۲ء) خدا کی عبادت ایسے طور سے کی جاوے۔کہ کوئی چیز خدا کے سوا دل میں ، زبان میں ، حرکات میں سکنات میں معبود نہ رہے۔قرآن مجید فرماتا ہے۔یہودی اور عیسائی اس اسلامی اصل کا بظاہر قرار کرتے ہیں اور جب کتبب مقدّسہ خود اسلام کے مخالف نہیں۔کیونکہ ان کے یہاں بھی شروع کا بڑا اور پہلا حکم یہی ہے۔کہ ’’ خداوند کو جو تیرا خدا ہے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان۔اپنی ساری سمجھ سے پیار کر‘‘ ( متی باب ۲۲آیت ۳۷۔استثناء باب ۶ آیت ۵) فاعدہ۔خلوص کا لفط۔اور لَا تُشْرِکْ کا لفظ اس سارے، سارے، ساری کہنے سے اعلیٰ