حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 436
بَرِیَّۃ اور برایا دونوں کے ایک معنی ہیں یعنی مخلوق بَرَائَ خَلَقَ باری خالق کے خداوند تعالیٰ کا صفاتی نام ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۲؍ اگست ۱۹۱۲ء) ۹۔۔جو وعدے صحابہؓ کو دئے گئے تھے۔وہ صرف آخرت ہی کے نہیں تھے۔بلکہ دنیا اور آخرت دونوں ہی کے تھے۔دنیا کی انہار صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے لئے جیحوں۔سیحوں۔دجلہ اور فرات تھے اَبَدًا کی شہادت اس وقت تک کے قبضہ سے موجود ہے۔آیت نمبر۸ میں اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ اعمالِ صلالحہ کی کمزوری جس قدر ہو گی۔اسی قدر ان انہار و جَنّات وغیرہ کے قبضہ میم بھی کمزوری واقع ہو گی۔اہلِ شیعہ پر بھی یہ آیت شریف حُجّت ہے۔صحابہ رضی اﷲ عنہم کے اعمال اگر اعمالِ صالحہ نہ ہوتے تو یہ انہار و جَنّات ان کو کس طرح ملتے۔رَضِيَ اﷲُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ۔آگے فرمایا کہ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّہٗ۔معلوم ہو کہ صحابہ رضی اﷲ عنہم غاصب نہیں تھے۔خشیۃاﷲ ان میں سب سے بڑھ کر تھی۔اس سورۃ کی ابتداء میں تو بتایا کہ مکّہ اور مدینہ کے مشرکین اور اہلِ کتاب میں جو انقلاب مقدّر تھا۔وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی بعدت پر موقوف تھا۔چنانچہ یہ بات کسی مزید توضیح کی محتاج نہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی بعث کے بعد عرب کی کایا ہی پلٹ گئی اور آپؐ سے پہلے ساری قومیں تمام فرقے اور اہل مذاہب اپنے مرکزِ توحید سے دور جا پڑے تھے اور ہر قسم کی بداعتقادیوں بداخلقیوں اور بداعمالیوں میں مبتلا تھے۔اس لئے قرآن کریم نے فرمایا ظَھَرن الْفَسَادن فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ( روم: ۴۲) علاوہ بُت پرست مشرکوں کے، اہل کتاب بھی مختلف قسم کے شرکوں اور عملی نجاستوں میں گرفتار تھے۔اور اس طرح پر روحانی نکتۂ خیال سے دنیا مر چکی تھی اور یہ بگڑی ہوئی قومیں اصلاح پذیر نہیں ہو سکتی تھیں۔جب تل آلبَیِّنَۃ نہ آؤے۔چنانچہ وہ موعودآلبَیِّنَۃ (نبی کریم صلی اﷲ علیہ و الہٖ وسلم) آئے اور آپؐ نے دنیا کو اس گند اور ناپاکی سے پاک کیا۔جس میں وہ مبتلا تھی۔آلبَیِّنَۃ کے معنی