حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 352 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 352

بلکہ لطیف تو بہت زیادہ خرق کو قبول کرتا ہے۔پھر کیا تعجب ہے کہ آسمانوں کے مادہ میم بہحکم ربق قدیر و حکیم ایک قسم کا خرق پیدا ہو جائے وَ اِنَّ ذٰلصِکَ عَلَی اﷲِ یَسِیْرًا بالآخر یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے۔کہ قرآن کریم کے ہر ایک لفظ کو حقیقت پر حمل کرنا بھی بڑی علطی ہے۔اور اﷲ جلشانہٗ کا یہ پاک کلام بوجہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت کے استعارہ لطیفہ سے بھرا ہوا ہے۔سو ہمیں اس فکر میں پڑنا کہ انشقاق اور انفطار آسمانوں کا کیونکر ہو گا۔در حقیقت ان الفاظ کے وسیع مفہوم میں ایک دخلِ بے جا ہے۔صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تمام الفاظ اور اس قسم کے اور بھی عالم مادی کے فناء کی طرف اشارہ ہے۔الہٰی کلام کا مدّعا یہ ہے کہ اس عالمِ کون کے بعد فساد بھی لازم پڑا ہوا ہے۔ہر ایک جو بنایا گیا۔توڑا جائے گا۔اور ہر ایک ترکیب پاش پاش ہو جائے گی اور ہر ایک جسم متفرق اور ذرّہ ذرّہ ہو جائے گا۔ہر ایک جسم اور جسمانی پر عام فنا طاری ہو گی۔اور قرآن کریم کے بہت سے مقامات سے ثابت ہوتا ہے کہ انشقاق اور انفطار کے لفظ جو آسمانوں کی نسبت وارد ہیں۔اُن سے ایسے معنے مراد نہیں ہیں جو کسی جسمِ صَلب اور کثیف کے حق میں مراد لئے جاتے ہیں جیسا کہ ایک دوسرے مقام میں اﷲ جلشانہٗ فرماتا ہے۔(الزمر:۶۸) یعنی دنیا کے فنا کرنے کے وقت خدا تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ سے لپیت لے گا۔اب دیکھو کہ اگر شَقّ السَّمٰوٰت سے درحقیقت پھاڑنا مراد لیا جائے تو کا لفظ اس سے مغائر منافی پڑیگا۔کیونکہ اس میں بھاڑنے کا کہیں ذکر نہیں۔صرف لپیٹنے کا ذکر ہے۔پھر ایک دوسری ایت ہے جو سورث الانبیاء جز ۱۷ میں ہے اور وہ یہ ہے۔ (الانبیاء:۱۰۵) یعنی ہم اس دن آسمانوں کو ایسا لپیٹ لیں گے جیسے ایک خط متفرق مضامین کو اپنے اندر لپیٹ لیتا ہے۔اور جس طرز سے ہم نے اس عالم کو وجود کی طرف حرکت دی تھی۔انہیں قدموں پر پھر یہ عالم عدم کی طرف لوٹایا جائے گا۔یہ وعدہ ہمارے ذمّہ ہے۔جس کو ہم کرنیوالے ہیں۔بخاری نے بھی اس جگہ ایک حدیث لکھی ہے۔جس میں جائے عور یہ لفظ ہیں۔وَ تَکُوْنُ السَّمٰوٰتُ بِیَمِیْنِہٖ یعنی لپیٹنے کے یہ معنے ہیں کہ خداوند تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں چھپا لے گا اور جیسا کہ اب اسباب طاہر اور مسبّب پوشیدہ ہے۔اُس وقت مسبّب طاہر اور اسباب زاویۂ عدم میں چھپ جائیں گے اور ہر ایک چیز اس کی