حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 351 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 351

فورٹ اِز ناٹبِلٹ ان اے ڈے (FORT IS NOT BUILT IN A DAY) قمر کی تدریجی ترقی بھی اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ہمارا بدرؔ پہلے البدرؔ تھا اور اب خدا کے فضل سے بدر ہوا۔شَبَّھَہٗ بِالْبَدْرِ قَالَ ظَلَمْتَنِیْ یَا وَ اضِعِیْ وَ اﷲِ ظُلْمًابَیِّنٌ اَلْبَدْرُ یَنْقُصُ وَ الْکَمَلُ فِیْ طَلْعَتِیْ فَلَاجلِ ھٰذَصِرْتم مِنْہُ اَحْسَنُ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۲؍ جون ۱۹۱۲ء) ۲۴۔۔: وِعَاء سے مستق ہے۔جس کے معنے ظرف میں کسی چیز کے بھرنے کے ہیں۔فَبَدَأَ بِاَوْ عِیَتِھِمْ (یوسف:۷۷) انہی معنوں میں ہے۔اَوْعِیَث وِعَائٌ کی جمع ہے۔بات کو سُن کر محفوظ رکھنا بھی وِعَاء ہے۔تَعِیَھَآ امذْنٌ وّن اعِیَۃٌ (الحاقّہ:۱۳) یہاں یُوْعُوْنَ سے مطلب کفّار کی اس کی منصوبہ بازی سے ہے جو پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے قتل کی نسبت دل میں ٹھان رکھی تھی جو آفتاب کی صبح کے تنفس سے لیکر شفق تک اپنی تمامی منزلیں طے کرتا ہو۔اس کو درمیان میں کون روکے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۲؍ جون ۱۹۱۲ء) ۲۶۔۔:غیر ممنون۔غیر مقطوع۔قرآن شریف کے سجداتِ تلاوت میں سے اس سورہ شریفہ میں تیراہواں سجدہ ہے …… (ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۲؍ جون ۱۹۱۲ء) شقّ آسمان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰث والسلام نے جو تحریر فرمایا ہے۔اس کا اندراج بھی ضروری معلوم ہوتا ہے اور اگر یہ اعتراض پیش ہو کہ قرآن کریم میں یہ بھی لکھا ہے کہ کسی وقت آسمان پھٹ جائیں گے اور ان میں شگاف ہو جائیں گے۔اگر وہ لطیف مادہ ہے تو اس کے پھٹنے کے کیا معنے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اکثر قرآن کریم میں سماء سے مرادکُلّ مَا فِی السَّمَآئکو لیا ہے جس میں آفتاب اور ماہتاب اور تمام ستارے داخل ہیں۔ماسوا اس کے ہر ایک جَرم لطیف ہو یا کثیف قابلِ خرق ہے