حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 353
طرف رفوع کر کے تجلّیات قہریہ میں مخفی ہو جائے گی اور ہر ایک چیز اپنے مکان اور مرکز کو چھوڑ دیگی اور تجلّیات الہٰیہ اس کی جگہ لے لیں گی اور عقل ناقصہ کے فنا اور انعدام کے بعد علّتِ تامہ کاملہ کا چہرہ نمودار ہو جائے گا۔اسی کی طرف اشارہ (المومن:۱۷) یعنی خدا تعالیٰ اپنی قہری تجلّی سے ہر ایک چیز کو معدوم کر کے اپنی وحدنیت اور یگانگت دکھلائے گا۔اور خدا تعالیٰ کے وعدوں سے مراد یہ بات نہیں کہ اتفاقاً کوئی بات منہ سے نکل گئی اور پھر بہر حال گلے پڑا ڈھول بجانا پڑا۔کیونکہ اس قسم کے وعدے خدائے حکیم و علیم کی شان کے لائق نہیں ہیں۔صرف یہ انسان ضعیف البُنیان کا خاصّہ ہے۔جس کا کوئی وعدہ تکلّف اور ضعف یا مجبوری اور لاچاری کے مواقع سے ہمیشہ محفوظ نہیں رہ سکتا اور بایں ہمہ تقریبات اتفاقیہ پر مبنی ہوتا ہے۔نہ علم اور یقین اور حکمت قدیمہ پر۔مگر خدا تعالیٰ کے وعدے۔اس کی صفات قدیمہ کے تقاضے کے موافق صادر ہوتے ہیں اور اس کے مواعید اُس کی غیر متناہی حکمت کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۲؍ جون ۱۹۱۲ء)