حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 336 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 336

اس قدر کلام ذوالمعارف بیان فرمانے کے بعد رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے جنون کے الزام کو دفع فرمایا اور استشہاد کیا۔اس ذوالمعارف و پُر از حقائق کلام سے کہ کیا مجنون ایسے مدلّل اور پُر معانی عبارات بیان کر سکتا ہے۔مجنون تو بے تُکّی باتوں میں پکڑا جاتا ہے۔مجنون کے ساتھ صَاحِبُکُمْ کے لفظ لانے سے یہ غرض ہے کہ جنون کی پہچان چند ساعت یا چند روزہ مصاحبت سے خوب اچھی طرح معلوم ہو جاتی ہے۔اور سورۃ نٓ وَالْقَلَمِ میں یہ سمجھایا کہ تحریر میں مجنون ذرا بھی باربط عبارت سے نہیں چل سکتا۔آیہ کریم مَابِصَحِبِکُمْ مِّنْ جِنَّۃٍ (سبا: ۴۷) میں بھی مصاحبت ہی سے جنون کو پہنچا نوایا ہے۔پیغمبر صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کا اسی دنیا میم مُکرّم۔ذی قوّۃ۔مکین اور مطاع ہو جانا بھی بیان فرمایا ہے۔یہ صفتیں جبرائیل کی بھی ہیں۔اس صورت میں قول کے معنے قرأت جبرائیل کے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۶؍جون ۱۹۱۲ء) یعنی وہ رسول ہے اعلیٰ درجہ کی عزّت والا۔طاقتوں والا۔رُتبے والا۔اور ملائکہ اس کے ماتحت چلتے ہیں۔اﷲ کی رحمتوں کے خزانہ کا امین ہے۔( بدر ۴؍فروری ۱۹۰۹ء صفحہ۳) ۲۵۔۔ضَنِیْنٍ کے معنے مُتَّھِّم۔اپنے پاس سے بات بنانے والا۔آسمانی خبروں کے اور معاد کے احوال بنانے میں بخیل۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۶؍جون ۱۹۱۲ء) ۲۷۔۔ایسے کو چھوڑ کر کہاں جاتے ہو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۶؍جون ۱۹۱۲ء) ۳۰۔۔تم نہ چاہا کرو مگر وہی جو رضاء الہٰی ہو۔یہ واؤ حالیہ ہے۔اس کے معنے ہوئے ’’ حالانکہ نہ چاہو