حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 335 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 335

دیوانے کی زبان سے نہیں نکل سکتے۔جیسا کہ آگے اس کا ذکر آئے گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۶؍جون ۱۹۱۲ء) ۱۶،۱۷۔۔۔یہ کلام بھی کلامِ ذوالمعارف کے طور پر ہے۔منجملہ اس کے معارف کے ایک یہ ہے۔کہ قسمیہ طور پر فرمایا کہ کفراب تین طرح سے ٹوٹے گا۔اوّل: ترقی کفر کی تھم جائے گی۔دبک جائے گی۔پسپا ہو جائے۔دومؔ کچھ لوگ رُوبراہ ہو کر اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔باقی رہے سہے پرجھاڑو پھیر دی جائے گی، آسمانی بلاؤں سے، زمینی بلاؤں سے، جنگوں سے کفر کا صفایا ہو جاوے گا۔یہی اس کے لئے تکَنّس ہے۔سورج کی روشنی سے ستاروں کا ماند پر جانا بھی کُنّس ہے اور کُنّس کے معنے ڈوب جانے اور غروب ہو جانے کے ہیں۔لانافیہ کی توجہیہ سورۃ قیامۃ میں دیکھو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۶؍جون ۱۹۱۲ء) ۱۸،۱۹۔۔۔رات گئی اور صبح نمودار ہو گئی۔صہابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم فرماتے ہیں: وَ فِیْنَا رَسُوْلُ اﷲِِ یَتْلُوْا کِتنابِہٗ اِذَا انْشَقَّ مَعْرُوْفن مِنَ الْفَجْرِسَاطِعٗ عَسْعَسَ اضداد سے ہے جس کے معنے آنے اور جانے کے ہیں۔یعنی کُفر گیا اور اس کی جگہ اسلام نے لے لی ہے۔عَسْعَسَ کے لفظ سے زمین کا گول ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔کہ ایک طرف سے ظلمت روشنی پر چڑھی چلی آتی ہے تو ساتھ ہی دوسری طرف سے پیچھے سے روشنی ظلمت پر سوار ہو رہی ہے اور یہ ہو نہیں سکتا جب تک زمین گول نہ مانی جاوے۔تِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِ لُھَابَیْنَ النَّاسِ ( آل عمران: ۱۴۱) کے معنے بھی لیل کے تَعَسْعُسْ اور صبح کے تنفّس کے قریب قریب ہیں یا عسعس کے لفظ سے زمین کا گول ہونا یوں سمجھ لیجئے کہ جب رات ہماری طرف سے گئی اور ہم پر دن آیا تو زمین کی دوسری طرف والوں پر رات آئی اور اسی طرح سے اس کے بالعکس۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۶؍جون ۱۹۱۲ء) ۲۰ تا۲۳۔۔