حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 319 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 319

ایسا کمال حاصل کرے کہ خود اس میںموجد ہو جائے۔مثلاً طالبعلم ہو یا تاجر۔پہلے پہل اس کو ہمہ گوش وہمہ تن ہو کر اپنے کام میں مستغرق ہونا پڑتا ہے۔تب کچھ حروف سناسی یا سنبھالا پکرتا ہے۔پھر بعد اس کے نساطِ خاطر سے کام چل پڑتا ہے۔پھر بعد چندے طالبعلم یا پیشہ ور اپنے اپنے معافی و مطالب کے پیراک ہو جاتے ہیں۔پھر اپنے ہم عصروں اور پیشہ وردوں سے بایکدیگر مسابقت و پیش قدمی کرنے لگتے ہیں۔آخری درجہ کمال یہ ہوتا ہے۔کہ موجدِ فن و مدّبر و افسر اعلیٰ بن جاتے ہیں۔ملائکہ اﷲ کی خدمات بھی ان آیتوں سے مراد سمجھی گئی ہیں۔مگر آیت اپنے عموم پر دلالت کر کے ملائکۃ اﷲ کے ہم رنگ وہم سبق ہونے کی انسانوں کو بھی تعلیم دے رہی ہیں۔اور ساتھ ہی جزاو سزا کے مسئلہ کو جو مقصود بالذّات ہے ثابت کر رہی ہیں۔نتائج اعمال حق ہیں۔کوششوں کے پھل ضرور ملیں گے۔اَلدُّنْیَا مَزَرَعَۃُ الْاٰخِرٰۃِ۔دنیا ایک زراعت گاہ ہے۔اس زراعت کے کاٹنے کا جو وقت ہے اس کا نام یومِ آخرت و یوم القیامۃ ہے ؎ ازمکافاتِ عمل غافل مشو گندم از گندم بروید جَوزِ جَو اﷲ تعالیٰ نے قَسم کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔گویا کہ ان واقعات کو جزا و سزا کے لئے گواہ ٹھہرایا ہے۔اور اُس آنے والے دن کے اشراطِ عظام۔مبادی و مقدمات یوں بیان فرماتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ ۳۰۴، ۳۰۵) ۷،۸۔۔ زلزلے ہمیشہ آتے رہیں گے۔ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ اشراط عظام قبل قیامِ ساعت جب شروع ہو جاویں گے تو ایسے لگاتار ظہور ہوںگے۔جیسے تسبیح کا تاگہ ٹوٹ جانے سے منکے تسبیح کے متتابعِ یکے بعد دیگرے گرنے لگتے ہیں اور یہ بھی فرمایا ہے۔کہ اَوَّلُ الْاٰیَاتِ خُرُوْجًا طُلُوْعم الشَّمْسِ مِنْ مَغْرببِھَا أَ و الڈَّآبَۃُ اَیَّتُھُمَا خَرَجَتْ فَاْلُاْخْرٰی عَلٰی اَثَرِھَا۔سب سے پہلی نشانی جو ظاہر ہو گی وہ یا تو طلوعِ شمس من مغر بہا ہو گی۔یا خروج دابہ کی ہو گی۔جونسی ان میں سے پہلے ظاہر ہو گی دوسری بھی اس کے نقش قدم کے ساتھ ہی شروع ہو گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے۔کہ تیرہ سو برس گزرنے کے بعد ظہور ان آیات کا جو تعبیر طلب ہو گیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح دُور کی چیز اپنی کیفیّت و کمیّت میں بسبب بُعد مکانی کے