حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 320
اپنی اصل شکل سے کچھ مغائر معلوم ہوتی ہے۔اسی طرح سے پیغمبروں کے مکاشفات کا حال ہے کہ پیشگوئیوں میں جو مکاشفات کے ذریعہ سے بیان کی جاتی ہیں۔بہ سبب بُعد مکانی کے کچھ نہ کچھ تعبیر واقع ہو جاتی ہے۔احکام و اوامرو نواہی کا ایسا حال نہیں ہوتا۔اب تو کئی قسم کے زلزلے آئے اور متتابع آئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ ۳۰۵) ۱۱۔۔اَلْحَافِرَۃِ: نشان قدم۔جُفر سُم کو کہتے ہیں۔حُفْرَۃٌ گڑھے کے معنے ہیں۔مَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَۃِ۔کیا ہم اپنے نقشِ قدم پر لوٹ کر پھر اگلی حالت جیسے زندہ انسان ہو جائیں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ ۳۰۵) ۱۵۔۔میدانِ حشر۔میدانِ جنگ۔میدانِ بدر بھی اُس کا مصداق تھا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ ۳۰۵) ۱۹۔۔بڑی ہی نرمای اور ملائمت سے تبلیغ کو سروع کرنے کی تعلیم فرمائی ہے۔دوسری جگہ فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًالَّیِْنًا (طٰہٰ: ۴۵) فرمایا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ ۳۰۵) ۲۱،۲۲۔۔۔آیَۃَ الْکُبْرٰی: عصا تھا جس کے تابع پہلی اَرَئَیْت کے وقت یدِبیضا بھی تھا۔اس لئے ایک ہی چیز کا ذکر فرمایا۔ورنہ دوسری جگہ فرمایا ہے۔وَ لَقَدْ اَرَیْنٰہُ اٰیٰتِنَا کُلَّھَا فَکَذَّبَ وَ اَبٰی (طٰہٰ:۵۷) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ ۳۰۵) ۲۵۔۔: میں تمہارا بڑا رب ہوں۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۱۵۹)