حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 260
معرفت کا نکتہ ہے۔جو میں نے تمہیں سنایا ہے۔دوسروں کو ضرور ہر روز نصیحت کرو۔اس سے تین فائدے ہوتے ہیں۔اوّل خدا کے منکر۔نہی عن المنکر کی تعمیل ہوئی ہے۔دوسرے ممکن ہے کہ جس کو نصیحت کی جائے۔اس کو نیک کاموں کی توفیق ملے۔تیسرے جب انسان اپنے نفس کو مخاطب کرتا ہے تو اس کو شرم آتی ہے اور اس کی بھی اصلاح ہوتی ہے۔تمہارے بیان بیان میں خدا کی عظمت اور اس کی قدرت و تصرف کا ذکر ہو۔اس کا تین طرح دنیا میں مقابلہ ہوتا ہے بعض لوگ تو منہ پر کہہ دیتے ہیں کہ نہ ہم مانتے ہیں اور نہ ہم سننا چاہتے ہیں۔اور بعض سنتے ہیں مگر عمل کرنے کی پرواہ نہیں کرتے۔اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ قسم قسم کی وجوہات نکال کر واعظ میں نکتہ چینی کرتے ہیں۔مگر واعظ کو چاہیئے کہ اﷲ کے لئے صبر کرے اور اپنا کام کرتا چلا جائے۔(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۱۲ء، بدر ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۳) اے لحاف میں لپیٹے ہوئے( یہ اشارہ قبل نبوّت کی حالت پر ہے) کھڑا ہو۔پھر ڈرسُنا۔اور اپنے ربّ کی بڑائی بول۔اور اپنے کپڑے پاک رکھ اور کتھری کو چھوڑ دو اور نہ کر کہ احسان کرے اور بہت چاہے اور اپنے رب کی راہ دیکھ۔ثِیَاب کے معنی نفس اور دل کے بھی ہیں۔محاورہ ہے۔سَلِّی ثِیَابِی مِنْ ثِیَابِکِ اَیْ قَلْبِیْ مِنْ قَلْبِکِ۔فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۲۶) ۶۔۔رُجْز میں دو لغت بیان ہوئے ہیں۔ایک رُجْزاوررِجْز۔دونوں صورتوں میں قریب قریب ایک دوسرے سے ملتے جُلتے ہیں۔کماقال (الاعراف:۱۳۵) اس آیت میں رِجْز کے معنے عذاب کے ہیں اور بُتوں کی پرستش اور شیطان کے مکرو فریب کو اس واسطے رجز کہا جاتا ہے۔کہ یہ چیزیں عذاب کی باعث ہیں اور اس حکم ظاہری اور باطنی دونوں قسم کی طہارت کی تعلیم فرمایا ( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍ مارچ ۱۹۱۲ء) ۷۔۔قرآن کریم کی تعلیم احکامِ الہٰی کی تبلیغ یا مالی احسان کے کسی کو بایں غرض منّت و احسان نہ جتا کہ آپ اس سے کثرتِ مال۔کثرتِ جاہ یا بہتر بدلہ طلب کرے۔اور کوئی چیز کسی شخص کو بہ ایں نیت