حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 245
اس لڑائی میں قیدار کے اکثر سردار مارے گئے اور وہ کامیابی جو سچائی کا معیار ہوتی ہے۔ظاہر ہو گئی۔اور یہ بدر کی فتح اسلام کے حق میں ایسی ہی اکسیرِ اعظم ہوئی۔جیسی جنگ ملوین برج کی فتح دینِ عیسوی کے حق میں۔نویں امر کی نسبت قرآن فرماتا ہے۔وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الدُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَھُمْ بِاَیْدِیْھِمْ وَ اَیْدِی الْمَؤْمِنِیْنَ فَاعْتَبِرُوْا یٰاُوْلِی الْاَبْصَارِ(حشر:۳) اور ڈالی اُن کے دلوں میں دھاک۔اجاڑنے لگے اپنے گھر اپنے ہاتھوں اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے۔سو دہشت مانو اے آنکھ والو۔تورات میں بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ سچّے نبی سے ڈریں لیکن اُن لوگوں نے کفّارِ مکّہ کی طرح نبیٔ برحق کی مخالفت کی۔وعیدِ الہٰی سے نڈر ہو گئے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا۔کہ بنی نضیر ( بنی اسرائیل) ویران اور تباہ ہو کر مدینہ سے نکل گئے۔بعض عیسائی کہتے ہیں کہ یہ بشارت مسیحؑکے حق میں ہے۔پر یہ دعوٰی ان کا صحیح نہیں کیونکہ مسیحؑ اور موسٰی کے حالات میں کسی قسم کی ماثلت جو پیشینگوئی میں مندرج ہے۔ہرگز نہیں پائی جاتی۔وجہ اوّلؔ یہ ہے کہ مسیحؑ صاحبِ شریعت نہ تھے۔بلکہ شریعتِ موسوی کے پیرو تھے چنانچہ اَ کے بپتسمہ لینے۔ختنہ کرانے۔یوروشلم میں آنے سے ظاہر ہے۔دومؔ مسیح نے خود بھی تو دعوٰی نہیں کیا کہ بشارتِ مثلیت میرے حق میں ہے۔اور نہ ان کے حواریوں نے اس بشارت کو اُن کی طرف منسوب کیا۔بلکہ اعمال باب ۳۔۱۹سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح اس کا مصداق نہیں۔پس توبہ کرو اور متوّجہ ہو کہ تمہارے گناہ مٹائے جائیں تاکہ خداوند کے حصور سے تازگی بخش ایّام آ,یں اور یسوع مسیح کو پھر بھیجے۔جس کی منادی تم لوگوں کے درمیان آگے سے ہوئی۔ضرور ہے کہ آسمان اُسے لئے رہے اُس وقت تک کہ سب چیزیں جن کا ذکر اپنے سب پاک نبیوں کی زبانی شروع سے کیا۔اپنی حالت پر آویں۔کیونکہ موسٰی نے باپ دادوں سے کہا کہ خداوند جو تمہارا خدا ہے تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے ایک نبی میرے مانند اٹھائے گا۔جو کچھ وہ تمہیں کہے۔اس کی سب سُنو۔اور ایسا ہو گا کہ ہر نفس جو اُس نبی کی نہ سُنے۔وہ قوم سے نیست کیا جاوے گا۔بلکہ سب نبیوں نے سموئیل سے لیکر پچھلوں تک جتنوں نے کلام کیا۔اُن دنوں کی خبر دی ہے۔تم نبیوں کی اولاد اور اس عہد کے ہو کہ خدا نے باپ دادوں سے باندھا ہے جب ابراہام سے کہا کہ تیری اولاد