حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 246
سے دنیا کے سارے گھرانے برکت پاویں گے۔تمہارے خدا نے اپنے بیٹے یسوع کو اٹھا کے پہلے بھیجا کہ تم میں سے ہر ایک کو اُس کی بدیوں سے پھیر کے برکت دے‘‘ اس سے کئی باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔اوّلؔ: مسیح کی آمد اوّل کے بعد اور آمدِ ثانی سے پہلے اس پیشین گوئی کا پورا ہونا ضروری ہے۔دومؔ: موسٰی کے بعد یوشع اور اس کے بعد کے انبیاء اور سموئیل سے لے کر پچھلوں تک کوئی بھی اس کا مصداق نہیں ہوا۔سومؔ: حضرت ابراہیم کی دعا کو سوائے ارسال اُن انبیاء کے جو بنی اسرائیل میں سے مُرسل ہوئے کوئی خاص خصوصیت اُس نبی سے ہے۔چہارمؔ: مسیح اُس نبی سے پہلے آیا اب اُس دوسرے کی ضرورت ہوئی۔پنجم ؔ: حواری کے قول سے ظاہر ہے کہ اس بشارت کا مصداق نبی مسیح سے پہلے نہیں گزرا اور خود مسیح بھی نہیں۔اس لئے اس نبی کے آنے تک ضرور ہے کہ آسمان مسیح کو لئے رہے۔سوال: اگر اکوئی شخص کہے کہ بنی عیسو اور بنی قطورا کیوں اس کے مصداق نہیں ہو سکتے۔جواب: اول ان میں سے کسی نے اس پیشین گوئیکو اپنے حق میں ثابت نہیں کر دکھایا۔دوم: پورس نامۂ رومیاں۔۹باب۔درس ۱۳ میں فرماتا ہے خداوند نے یعقوبؑ سے محبت کی اور عیسو سے عداوت۔سوئم: عیسو نے مسور کی دال پر اپنی نبوت بیچ دی۔پیدائش۲۵ باب ۳۲۔۳۳ چہارم: یعقوب نے فریب سے نبوّت کا ورثہ اوس سے لے لیا۔پیدائش ۲۷ باب ۳۵۰ نبوابنائے قطورا زندگی ہی میں خارج ہو چکے تھے۔مرتے وقت صرف اسمٰعیل اور اسحٰق پاس تھے۔پیدائش ۲۵ باب لغایت۹۔حل الاشکال میں اس پیشینگوئی پر اعتراض کیا کہ بشارت میں’’تجھ میں سے‘‘ کا لفظ وارد ہے۔جواب (۱) خدا کے اس کلام میں جو موسٰی نے نقل کیا یہ لفظ نہیں۔(۲) یہ’’ لفظ تجھ میں سے‘‘اعمال باب ۳۔۲۲ میں نہیں۔