حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 244 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 244

ہو’’ محمد اﷲ کا رسول ہے‘‘ اور میں تمہیں اﷲ کی قسم دیتا ہوں۔بتاؤ تو سہی جو کچھ اﷲ نے تم پر اتارا۔کیا تم اس میں یہ نہیں لکھا پاتے کہ تم لوگ مجھ پر ایمان لاؤ؟ اگر تم اپنی کتاب میں نہیں لکھا پاتے ہو تو مَیں تمہیں مجبور نہیں کرتا۔ضلالت اور ہدایت ممتاز ہو چکی ہے۔(ابن ہشام جلد نمبر۱ صفحہ۱۹۴) نوٹ: نبوّت کا دن ایک برس کا ہوتا ہے جیسے دن جو ساتھ صبح اور شام کے نبوّت میں لکھا ہو یا شام یا صبح سے شروع کرے تو چوبیس گھنٹے کا شمار ہوتا ہے ورنہ ایک سال کا ( دیکھو اندرونہ بائیبل صفحہ ۳۱۳) پادری صاحبان غور کرو۔قرآن نے کیسا معجزہ دکھایا کہ ان کے زوال کا وقت بھی بتا دیا۔اور یہ وعدہ جنگ بدر میں پورا ہوا۔کیونکہ بدر کی لڑائی ٹھیک ایک برس بعد ہجرت کے واع ہوئی یعنی ۱۰؍جولائی ۶۲۲ ؁ء کو آنحضرتؐ مکّہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے اور ۶۲۳ ؁ء میں قریش سے جنگِ بدر ہوئی اور اس بدر کی لڑذئی کو قرآن نے آیت یعنی بڑا نشان ٹھہرایا جو کامیابی اسلام کو گویا آغاز ہے۔چنانچہ فرمایا۔(آل عمران:۱۴) (آل عمران:۱۲۴) ابھی ہو چکا ہے تو کو ایک نمونہ دو فوجوں میں جو بھڑی تھیں۔ایک فوج ہے کہ لڑتی ہے اﷲ کی راہ میں اور دوسری منکر ہے۔یہ اُن کو دیکھتی ہے اپنے دو برابر صریح آنکھوں سے اور اﷲ زور دیتا ہے اپنی مدد کا۔جس کو چاہے۔اسی میں خبردار ہو جاویں جن کو آنکھ ہے۔اور تمہاری مدد کر چکا ہے اﷲ بدر کی لڑائی میں اور تم بے مقدور تھے سو ڈرتے رہو اﷲ سے۔شاید تم احسان مانو۔یہاں وہ پیشگوئی جو یسعیاہ باب ۲۱ درس ۱۳ سے شروع ہوتی ہے پوری ہوئی۔’’عرب کی بابت الہامی کلام۔عرب کے صحرا میں تم رات کو کاٹو گے۔اے دوانیوں کے قافلو۔پانی لے کے پیاسے کا استقبال کرتے۔آؤ اے تیما کی سر زمین کے باشندو۔روٹی لے کے بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو۔کیونکہ وے تلواروں کے سامنے سے ننگی تلوار سے اور کھنچی ہوئی کمان سے اور جنگ کی شدّت سے بھاگے ہیں۔کیونکہ خداوند نے مجھکو یوں فرمایا ہنوز ایک برس۔ہاں مزدور کے سے ٹھیک ایک برس میں قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی اور تیراندازوں کی جو باقی رہی۔قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے کہ خداوند اسرائیل کے خدا نے یوں فرمایا‘‘