حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 233 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 233

میں بحالتِ نشاط اگر قیام زیادہ کر لے اور بڑی راتوں میں بوجہ عدم نشاط طبیعت اگر قیام کم کرے تو یوں بھی اختیار ہے۔مگر چونکہ قُمْ بصیغہ امر ہے۔اس لئے قیامِ لَیْل آپؐ پر فرض تھا جب کبھی بعض راتوں میں قیامِ لَیْل آپؐ سے رہ گیا ہے تو آپؐ نے اس کو بعد طلوعِ آفتاب ادا فرمایا ہے۔ایک حدیث میں پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے قرآن شریف یاد کرنے والوں اور قیامب لَیْل کرنے والوں کواَشْرَافُ اُمَّتِیْ فرمایا ہے۔شرف کے لغوی معنے بلندی کے ہیں۔۔اَیْ بَیِّنْہُ تَبْیِیْنًا وَ فَصِّلْہُ تَفْصِیْلًا:کسی نے حضرت اُمِّ سلمہؓ سے پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی قَرأت کی کیفیت دریافت کی۔فرمایا کہ آپؐ ہر ایک آیت کو جُدا جُدا کر کے پڑھتے تھے۔مثلاً۔۔۔۔کے چار ٹکڑے کرتے اور ہر ایک ٹکڑے کو علیحدہ علیحدہ پڑھتے۔ابو داؤد میں روایت ہے۔پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا۔کہ کچھ لوگ پیدا ہوں گے۔جو قرآن کو تیر جیسا سیدھا کریں گے۔وہ بہت جلد جلد پڑھیں گے۔نہ ٹھہر ٹھہر کر۔دوسری روایت میں ہے کہ …… آیا ہے۔ایک اور روایت میں فرمایا ہے۔کہ جس نے تین دن سے کم میں قرآن شریف کو ختم کیا۔وہ نہ پڑھا۔نہ چُپ رہا۔لَا قَرَئَ وَ لَاسَکَتَ۔اب تو بعض تراویہ کے پڑھانے والے قاری ایک ہی شب میں جس کو وہ شبینہ کہتے ہیں۔قرآن شریف کو ختم کر دیتے ہیں۔میں قولِ ثقیل قرآن کریم کی متواتر پے در پے وحی کو فرمایا ہے حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ ایک روز نہایت شدّت سے سردی تھی۔آپؐ پر وحی نازل ہوئی اور آپؐ کی پیشانی مبارک سے وحي کی شدت کی وجہ سے پسینے کے قطرے ٹپکنے لگے۔اسی طرح اگر آپؐ کسی اونٹ پر سوار ہوتے اور وحی کا نزول سروع ہو جاتا تو اس کے پاؤں بوجہ ثقل وحی ٹیڑھے ہونے لگتے اور اگر کسی صحابیؓ کی ران پر آپؐ کا سر مبارک ہوتا یا تکیہ لگائے ہوتے اور ایسی حالت میں وحی کا انزول ہونہ لگتا۔تو اس صحابی ؓ کو اپنی ران کے ٹوٹ جانے کا خوف ہوتا اور ایسی حالت میں آپؐ کا چہرہ مبارک زیادہ منوّر اور روشن ہو جاتا۔: بروزن عَاقِبَۃٌمصدر نَشَأَ بمعنی قَامَ للمذکّر نَاشِیٌٔ وَ الْمُؤَنَّثُ۔ناشِئَۃٌ اگرچہ عام طور پر امور حادثہ فی اللیل کو ناشئہ کہتے ہیں۔مگر چونکہ یہاں ذکر قیامب لَیْل