حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 234 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 234

کا ہے۔اس لئے سے مراد اوّل شب سو رہنے کے بعد قیامِ نماز کے لئے اٹھنا نشأۃہے مصدر بمعنی موافقت ہے۔کقولہ تعالیٰ لِیُوَ اطئُوا عِدَّۃ مَاحَرَّمَ اﷲُ اَیْ لِیُوَافِقُوْا --- حدیث شریف میں ہے کہ اِنَّ فِی اللَّیْلِ سَاعَۃٌ لَا یُوَافِقُھَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ یَسْأَلُ اﷲُ تَعَالیٰ خَیْرًا مِنْ خَیْرِ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ اِلَّا اَعْطَاہُ اِیَّاہُ وَ ذٰلِکَ لَیْلَۃً۔یعنی رات میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اگر مسلمان بندہ اس کے موافق پڑ جاتا ہے۔تو خدائے تعالیٰ سے دینی و دنیاوی بھلائی مانگتا ہے۔دیا جاتا ہے۔اور وہ ساعت کسی رات کے لئے خاص نہیں ہے۔بلکہ ہر رات میں ہوا کرتی ہے۔ع ہر شب شبِ قدر است اگر قدر بدانی اَقْوَمُ قِیْلًا : قول بمعنے فعل زبانِ عرب میں کثرت سے آتا ہے۔معنی یہ ہوئے کہ دینی و دنیوی سب کام تہجد گزار عابد انسان کے درست ہو جاتے ہیں۔چونکہ اَقْوَمُ مبالغہ کا صیغہ ہے۔اس لئے بڑے بڑے مشکلات اس ذریعہ سے دور ہو جاتے ہیں۔بارِ نبوّت کے ثقل اٹھانے کے لئے قیام لَیْل کو اسی لئے پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم پر فرض کیا۔اُمّت کو بھی اس میں بہت بڑی تعلیم ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے اَشَدُّ البَاَاء الْاَنِِْیَآئُ، ھُمَّ الْاَمْثَلُ فَاَالْاَمْثَلُ۔عموماً الہامی کتب اور احوال انبیاء و اولیاء سے ایسا ظاہر ہوتا ہے۔کہ رات کے وقت کو انتشارِ روحانیت اور جذب برکاتب یزدانی کے ساتھ خاص تعلق ہے۔جس کی وجہ غالباً وہ اتنہائی اور سکونِ قلب ہے۔جو رات کی خاموشی اور علیحدگی سے حاصل ہو سکتا ہے۔سَبْحًا: کے اصل معنے چلنے پھرنے اور گردش کرنے کے ہیں۔اسی واسطے پیراک کو سَلبِع کہتے ہیں کہ وہ تیرتے وقت ہاتھ پیر مارا کرا ہے۔اور یہاں سبع سے تصرّف فی الحوائج یعنی اِشْغَال۔اِدْبَار اِقْبَال اور آمد و رفت مُراد ہے۔نمازوں کا پڑھنا۔مریضوں کی عیادت کرنا۔جنازوں کی متابعت کرنا فقراء و مہاجرین کی اعانت۔طالب علموں کی تعلیم۔مستفتیوں کو فتوٰی دینا۔صلآح کرنا۔کافروں کا مقابلہ اپنے ذاتی حوائج پورے کرنے۔بیبیوں کی ضروریات کو مدّ نظر رکھنا۔یہ سب امور آپؐ کے لئے سَبْحًا طَوِیْلًا تھے۔: رات ساری تو قیامِ لَیْل میں گزری اور دن سارا سَبْحًا طَوِیْلًا۔نبوّت کے فرائض کی ادائیگی میں ختم ہوا۔اب بالطبع خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ روزی رزق کی کیا سبیل ہو۔تو اس کے لئے ربوبیت کو