حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 232
اگر ذرا بھی توجّہ کرے۔تو سب مشکلات آسانی سے دور ہا جائیں۔: اﷲ تعالیٰ کا نام لو۔اور رات کو جہان سے منقطع ہو جاؤ۔مومن کو حضرت یوسفؑ کے بیان میں پتہ لگ سکتا ہے کہ جس شخص کا کسی چیز سے محبّت و تعلق بڑھ جاتا ہے۔تو وہ اپنے محبوب کا کسی نہ کسی رنگ میں ذکر کر ہی دیتا ہے۔منیں جن جن شہروں میں رہا ہوں۔اپنی مجلس میں مجھے ان کی محبقت سے کبھی کبھی ذکر کرنا پڑتا ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مجلس میں دو شکص آئے اور کہا کہ ہم نے ایک خواب دیکھی ہے اس کی تعبیر بتلا دو۔آپؑ نے فرمایا۔کھانے کے وقت سے پہلے ہم آپ کو تعبیر بتلا دیں گے۔پھر آپؑ نے کہا کہ دیکھو۔ہم کو علمِ تعبیر کیوں آتا ہے۔تم کو کیوں نہیں آتا؟ اس کی وجہ یہ ہے۔کہ مَیں نے شرک کو چھوڑا تم بھی چھوڑ دو۔دیکھو دو گھروں کا ملازم ہمیشہ مصیبت میں رہتا ہے۔کام کے وقت ہر ایک یہ کہتا ہے کہ کیا تُو ہمارا ملازم نہیں۔لیکن تنخواہ دینے کے وقت کہتے ہیں۔کہ کیا دوسرے کا کام نہیں کیا۔اس لطیف طریقہ سے حصرت یوسف علیہ السلام نے شرک کی برائیاں بیان کیں اور پھر یہ بھی کہا کہ انبیاء پر ایمان لانا اور خدائے واحد کو ماننا ضروری ہے۔کے یہی معنے ہیں کہ انسان دل میں ذکرِ الہٰی سے ۱ ؎ مراد میاں عبدالحی ہیں۔مرتّب غافل نہ رہے۔: رات کو علیحدگی میں اپنے مالک کو یاد کرو۔اگر تم کو یہ خیال پیدا ہو علیحدہ رہنے سے کیا فائدہ ہو گا؟ تو یاد رکھو کہ۔۔۔پس یاد رکھو کہ جس پاک ذات نے تجھ کو علیحدگی اختیار کرنے کو کہا ہے۔وہ مشرق اور مغرب کا مالک ہے۔اس کو اپنا کارساز سمجھو۔وہ تم کو سب کچھ دیگا۔پس میرے بھائیو! غور کرو۔تم نے دن میں بہت کام کیا ہے۔رات ہو گئی۔سونا اور مرنا برابر ہے۔ایسے وقت میں سوچو کہ تم نے جنابِ الہٰی کی کس قدر یاد کی ہے۔(بدر حصّہ دوم ۲۸؍ نومبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۸۷،۸۸) نِصْفَہٗ اَوِانْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلًا: چونکہ راتیں بڑھتی گھٹی رہتی ہیں۔اس لئے متوسط راتوں میں نصف شب سے اور چھوٹی راتوں میں نصف سے کم کر کے اور بڑی راتوں میں نصف سے زیادہ بھی قیام کرنے کے لئے ارشاد فرمایا اور چونکہ ایک حکم قطعی نہیں ہے۔بلکہ دو جگہ اَوْ۔اَوْ فرما کر اختیار دیا ہے۔اس لئے طبیعت کے نشاط پر بھی اس قیام کو ہوالے کر دیا گیا ہے۔یعنی چھوٹی راتوں