حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 202 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 202

میں بیان فرمائے ہیں۔قرآن شریف میں جہاں کہیں قسموں کا ذکر ہوتا ہے۔اس کی تہہ میں کوئی نہ کوئی بڑی بڑی حکمت خدا تعالیٰ نے رکھی ہوتی ہے۔وہ حکمت جاہلوں۔عالموں۔صوفیوں سب کے لئے ہوتی ہے اور سب کے واسطے یہ قسمیں فائدہ بخس ہوتی ہیں۔عام لوگوں کی فطرتوں میں اور بالخصوص اہلِ عرب کے دلوں میں یہ بات مرکوز ہے کہ جو شخص جھوٹی قسمیں کھاتا ہے وہ برباد۔ذلیل۔ناکام اور نامراد ہو جاتا ہے۔ایک طرف تو مشرکینِ عرب آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو کافر سمجھتے تھے۔دوسری طرف ان کی زبان سے یہ قسمیں سنتے تھے۔اس سے ثابت ہوا کہ یہ قسمیں کھانیوالا اگر جھوٹا ہوتا تو ضرور تباہ ہو جاتا۔لیکن جبکہ نبی کریم صلی اﷲ و اآلہٖ وسلم کی کامیابیاں دن بدن ترقی پذیر تھیں تو ان سے ثابت ہوا کہ یہ راست باز ہے۔فلاسفروں کو ان قسموں سے یہ فائدہ ہوا کہ جہاں کہیں قرآن کریم میں قسم کھائی جاتی ہے۔اس کی تہ میں فلسفیانہ ثبوت ضرور ہوتا ہے۔اس جگہ  میں یہ بات ہے کہ نبی کریمؐ ب میں سے کس قسم کے اور کس مزاج کے لوگ شامل ہوتیے تھے اور کس طرح حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے جھنڈے کے نیچے لوگ جمع ہوتے رہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم نے کیا دیکھا نہیں کہ تم میں سے کام کے شخص اس کے ساتھ ملتے جاتے ہیں۔آیا اس کو کامیابی حاصل ہو رہی ہے یا نہیں۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ۔قسم قائمقام شہادت کے ہوتی ہے۔اور قرآن شریف کی قسمیں ان امور پر دلائل ہیں جن کے لئے وہ کھائی گئی ہیں۔مرئی اور مشہود اشیاء اور غیر مرئی اشیاء غرض بجمیع الاشیاء یہ شہادت پیس کی گئی ہے کہ یہ نبی سچّا رسول ہے۔شَاعِرٍ: یہ شخص شاعر نہیں کیونکہ شاعر مُنہ سے کہتا ہے۔خود کرتا کچھ نہیں۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے جو تعلیم پیش کی خود اس پر عمل کر کے دکھا دیا۔شاعر کوئی ایسا نہیں گزرا کہ جس کے کلمات اور اشعار پیشگوئیوں پر مبنی ہوں جو پوری ہو جائیں۔شاعر کے کلام کا اثر آنی ہوتا ہے۔لیکن قرآن شریف کا اثر دیرپا ہے۔کَاھِنٍ:کہانت کرنے والا۔اسپریچیولزم کا ماہریہ لوگ بڑے بڑے مجاہدات اور ریاضات سے ایک علم حاصل کرتے ہیں۔مگر ان کی اکثر باتیں جھوٹی ہوتی ہیں اور ان کے کلمات میں دروغ