حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 159
آسمان سے وابستہ ہیں۔آسمان سے پانی اتا ہے۔تو کھیتی بنتی ہے۔اور سورج کی دھوپ سے وہ پکتی ہے آسمان سے بارس نہ ہو۔تو کنؤیں اور دریا ہی خشک ہو جانے لگتے ہیں۔جب ظاہری ضروریات کے واسطے انسان آسمان کا محتاج ہے تو روہانی فیوص کے واسطے تم کیوں آسمانی وحی و الہام کی قدر نہیں کرتے۔: رحمانی تقاضا سے جو اشیاء مفت میں مل گئی ہیں۔ان کی شکر گزاری کرو۔ان میں کوئی فرق نہیں۔سورج برابر روشنی دئے جاتا ہے۔پھر صرورتِ نبوّت میں کیوں فرق کے قائل بنتے ہو۔: اضطراب کو بھی کہتے اور اختلاف کو بھی کہتے ہیں۔اضطراب یہ ہے کہ کوئی چیز کہیں کی کہیں ڈال دی جائے۔ایسا نہیں ہے۔اور نہ ایسا اختلاف اور گڑ بڑ ہے کہ مثلاً آگ کی خاصیت پانی میں جا پڑے اور پانی کی خاصیت آگ میں جا پڑے۔تفاوت نقصان کے معنوں میں بھی آتا ہے۔اﷲ تعالیٰ کی حق و حکمت میں کوئی نقصان نہیں ہوتا۔انسان کی تحقیقات میں نقصان ہو۔ورنہ خداکے کاموں میں کوئی نقصان نہیں۔: شق : بار بار چیزوں کو دیکھو۔تحقیقات کرو۔نقص نہ پاؤ گے۔پھر۔پھر غور کرو۔تمہاری آنکھیں دیکھتے دیکھتے تھک جائیں گی۔مگر کوئی بھی نقص نہ ملے گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍نومبر ۱۹۱۱ء) ۶۔ ۔سَمَآئَ الدُّنْیَا: ورلا آسمان اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے اس والے آسمان کو عجیب در عجیب چراغوں سے روشن کیا ہے اور ان میں ایسے بھی ستارے ہیں جو شریروں کو دور کرتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ کے حضور سے جب احکام صادر ہوتے ہیں۔تو بڑے فرشتے چھوٹے فرشتوں کو پہنچاتے ہیں۔اسی طرح رفتہ رفتہ بات وہاں تک پہنچتی ہے جہاں بادلوں کا طبقہ ہے اور وہاں تک شیطانوں کا دخل ہے۔کیونکہ ارواحِ خبیثہ کے بھی مدارج ہوتے ہیں۔بعض وہاں تک پہنچتے ہیں جہاں بادلوں کا آسمان ہے۔شَیٰطِیْنِ: منجمّین اور کاہن بھی انہیں میں سے ہیں جو کہ رجمًا بالغیب کرتے ہیں۔آئندہ کی باتیں باین