حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 160
کرتے ہیں اور ستاروں کو دیکھ کر تکّہ بازیاں کرتے ہیں۔یہ ستارے ان کے واسطے تکّہ بازی کا ایک ذریعہ بن گئے ہیں۔جوتشی اور رمّال لوگ ایسا کرتے ہیں۔… مجھے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ چند ایسے صاف اور بدیہی امور کو بیان کر دوں۔جن کے ملحوظ رکھنے سے آیات نمبر ۲ اور نمبر۳ کے فہم میں بہت سہولت ہو۔کیونکہ اس سوال پر آجکل بہت زور دیا جاتا ہے اور عام کالجوں کے لڑکے اور وہاں سے نکل کر بڑے عہدوں پر ممتاز اور ان کے ہم صُحبت ایسی باتوں پر بہت تمسخر کرتے ہیں۔پس چند امور ِ بدیہی کا بیان کرنا ضروری معلوم ہوا۔اوّل: مناظرِ قدرت کو دیکھنے والے مختلف الاستعداد لوگ ہوا کرتے ہیں۔مثلاً دوسرے کی آنکھوں کو ایک بچہ بھی دیکھتا ہے جو مصنوعی اور اصلی آنکھ میں تمیز نہیں کر سکتا۔پھر ایک عقلمند بھی دیکھتا ہے۔گو وہ اصلی اور مصنوعی میں فرق کر لیتا ہے۔مگر آنکھ کے امراض سے واقف نہیں ہو سکتا۔اور نہ اس کی خوبیوں اور نقصانوں سے آگاہ ہوتا ہے۔پھر شاعر دیکھتا ہے جو اس کے حسن و قبح پر سینکڑوں شعر لکھ مارتا ہے۔پھر طبیب و ڈاکٹر دیکھتا ہے۔جو اس کی بناوٹ اور امراض پر صدہا ورق لکھ دیتا ہے۔پھر موجدین دیکھتے ہیں۔جیسے فوٹوگرافی کے موجد نے دیکھا اور دیکھ کر فوٹوگرافی جیسی مفید ایجادیں کیں۔پھر اس کے اور وہ بھائی دیکھتے ہیں جنہوں نے عجیب در عجیب ٹیلی سکوپ وغیرہ ایجاد کئے۔پھر ان سے بالاتر صوفی دیکھتا ہے۔اور اس سے بھی اوپر انبیاء و رسل دیکھتے ہیں۔اور ان سب سے بڑھ چڑھ کر اﷲ کریم دیکھتا ہے۔غرض اسی طرح پر ہزاروں ہزار نظارہ ہائے قدرت ہیں اور ان کے دیکھنے والے الگ الگ نتیجے نکالتے ہیں۔اب ہم شہاب ثاقبوں کے متعلق لکھتے ہیں۔شہاب وہ چیزیں ہیں جنہیں انگریزی میں میٹئرز ۱؎ کہتے ہیں یہ تو بچہ۔عامی۔شاعر۔حکیم سب یکساں دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ شہب گاہ گاہ نظرآتے ہیں۔ا س سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا۔اب یہ بات کہ کیوں گرتے ہیں۔اس پر خدا داد عقل والے بھی غور کرتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ بھی جانتا ہے کہ کیوں گرتے ہیں اور نیز یہ بھی ظاہر ہے۔کہ اﷲ تعالیٰ حکیم ہے۔اس کا کوئی کام لغور اور بے حکمت نہیں ہوتا۔اس لئے ہم میٹئرز کے متعلق عامیوں کے بے فائدہ نظارہ کو چھوڑ کر پہلے حکماء کا نظارہ بیان کرتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ میٹرز آسمان میں سے کرّہ ہوائی میں داخل ہو کر روشن ہو جاتے ہیں۔ایسے ہر روز بیس ملین ہوا میں داخل ہوتے ہیں۔یہ چھوٹے اور عام اور روزانہ ہیں۔رات کے پچھلے حصّہ میں پہلے کی نسبت تین گنے زیادہ