حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 158
بعض نادانوں نے اس لفظ پر اعتراض کیا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کیوں کرتا ہے۔کیا وہ اپنے علمِ ڈیب سے نہیں جانتا کہ انسان کس حالت میں ہے۔قرآن شریف میں تو آزمائش کا لفظ ہی نہیں آیا وہاں تو بلاء کا لفظ آیا ہے۔جس کے معنے انعام کے ہیں۔ا ﷲ تعالیٰ نے ہماری یہ حالتیں موت اور زندگی کی اس واسطے بنائی ہیں کہ ہمیں انعام عطا کرے۔لیکن خدا تعالیٰ کے افعال کو قانونِ قدرت میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ایک شئے پر ایک محنت کرنی پڑتی ہے اور یہی امتحان ہے۔دانہ زمین میں چھوڑا جاتا ہے۔خس و خاشاک میں ملا دیا جاتا ہے۔پھر پانی سے اُسے اس مٹی میں تَر کیا جاتا ہے۔تب وہ پھٹتا ہے اور اس میں سے نرم پتیں نکلتی ہیں۔جو ہوا۔آندھی۔دھوپ کی شدّت اور قسما قسم کے حالات سے گزر کر آخر پھلتا ہے۔یہی امتحان ہے۔محنت کے بعد پھل ملتا ہے۔اریوں نے بھی جنم لینے کا مسئلہ ایجاد کیا ہے۔اور انجیل میں بھی لکھا ہے کہ ٹھوکروں کا آنا ضروری ہے۔امتحان کے معنے ہیں۔کسی سے محنت لینا اور اس پر مزدوری دینا۔قرآن شریف میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے (حجرات:۴) اﷲتعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقوٰی کے لئے ایک امتحان میں ڈالا۔جس سے وہ کامیاب ہوئے اور مغفرت اور اجر عظیم انہوں نے حاصل کیا۔عَزِیْزٌ: پیاری باتوں کو پیار کرنے والا۔غالب۔بڑی عزّت والا ہے۔اور بندوں سے غلطیاں ہوئی ہیں تو وہ استغفار کریں۔وہ معاف کرنے والا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍ نومبر ۱۹۱۱ء) ۴۔ ۔: سات آسمان چھوٹے برے سیّاروں اور ستاروں کے آسمان پر سات طبقات ہیں۔: کے دو معنے ہیں ۱۔بہت چوڑے چوڑے ۲۔ایک دوسرے کے اوپر یا ایک دوسرے کے بعد۔آسمان کے ذکر میں اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ انسانی زندگی کے لوازمات کی بہت سی اشیاء