حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 157 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 157

زندہ رہنا۔جس چیز کا تقاضا اور خواہش انسان میں ہے۔اس کا سامان بھی ضرور موجود ہو جاتا ہے۔انسان کی یہ فطری خواہشات سے ہے کہ وہ فنا نہ ہو۔تو اس کا سامان بھی اﷲ تعالیٰ نے بنا دیا ہے۔مرنے کے بعد روح قائم رہتی ہے۔اﷲ تعالیٰ نے موت بھی بنائی ہے۔یہ بھی اس کی بڑی غریب نوازی ہے۔موت کے ساتھ دنیا کی سب تکالیف کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور موت کے بعد پھر ترقیات کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ موت انسان کے واسطے اس طرح ضروری ہے جس طرح ہر اُس لڑکی کے واسطے جو کسی کے گھر میں پیدا ہو۔یہ ضروری ہے کہ اس کے ماں باپ بصد محبت اُسے پال پوس کر اور ہر طرح سے اس کی تعلیم و تربیت کر کے بالآخر ایک دن اسے اپنے گھر سے رخصت کر کے دوسرے گھر میں پہنچا آویں۔کیونکہ اس میں ایک جوہر خدا تعالیٰ نے رکھا ہے۔جس کی شگفتگی سوائے اس کے نہیں ہو سکتی۔کہ وہ اس گھر کو چھوڑ کر اُس گھر میں چلی جاوے۔خواہ اس کے ماں باپ اور خویش و اقرباء اس کی جدائی کے صدمہ سے روئیں اور غم کھائیں اور آنسو بہائیں۔پر ضرور ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے اُسے رخصت کریں۔جس طرح وہ جدائی کی گھڑی سخت ہے اسی طرح موت کی ساعت بھی سخت ہے۔مگر اس کے بعد آرام و راحت کا ایک نیا دَور شروع ہوتا ہے۔اس موت و حیوٰۃ کے الفاظ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے زمانہ میں قوموں کی روحانی موت اور پھر آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے طفیل دوبارہ زندگی کی طرف بھی اشارہ ہے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی بعثت سے قبل دنیا کی تمام قوموں پر روحانی مُردگی وارد ہو چکی تھی۔اور بّر و بحر ہلاک ہو چکے تھے۔اسی کی طرف قرآن مجید میں دوسری جگہ اشارہ فرمایا ہے۔ (انفال:۲۵) اے مومنو! اﷲ اور رسول کی بات مانو۔جبکہ وہ تمہیں بلاوے تاکہ تمہیں زندگی عطا کرے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍ دسمبر ۱۹۱۱ء) : تاکہ تمہیں انعام دے۔انعام امتحان کے بعد ہوتا ہے۔امتحان کے معنے ہیں۔محنت میں ڈالنا۔جس کسی کو ایک محنت اور بلاء میں اور مشقّت میں ڈالا جاتا ہے۔اور وہ اس سے کامیاب نکلتا ہے تب وہ انعام پاتا ہے۔تاکہ دیکھنے والے دیکھیں کہ محنت کا نتیجہ کیا ہے۔اور وفاداری کا پھل کس طرح ملتا ہے۔اسی طرہ دوسروں کو نیکی کی تحریک ہوتی ہے۔