حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 156
سُوْرَۃَ الْمُلْکِ مَدَنِیَّۃٌ ۲۔۔: بہت برکت والا۔دائمی خیر والا۔پاک ذات ہجے۔بابرکت والا ہے۔ملک و دولت کا مالک ہے۔سب چیزوں پر قادر ہے۔کسی پارلیمنٹ کے ماتحت نہیں۔کسی مجلس شورٰی کے قوانیں ماننے پر مجبور نہیں۔ایسے مالک کی حکومت کا ماننا ہمارے واسطے ضروری ہے اور مفید ہے۔انسانی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ طاقت ور اور بڑے کی بات کو مان لیتا ہے۔خدا تعالیٰ نے قدرت کو اپنے ہاتھ میں رکھا ہے بڑے بڑے فلاسفر ایک ایک ذرّے کی تحقیقات میں بھی حیران رہ جاتے ہیں۔اس سورۂ شریفہ کو نہایت پُرشوکت الفاظ سے شروع کیا گیا ہے جن سے اﷲ تعالیٰ کی طاقت۔سلطنت عزّت و عظمت و جبروت کا اظہار ہوتا ہے۔اس کے قبضۂ قدرت میں سب حکومتیں ہیں۔یہ سورۃ مکّی ہے۔ایسے وقت میں نازل ہوئی۔جب مسلمان تھوڑے اور کمزور تھے اور مشرکین کا زور تھا اس میں ایک پیسگوئی ہے۔کہ سلطنت اصل میں خدا کے ہاتھ میں ہے۔اور وہ اب کفّار سے لیکر محمدصلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو سلطنت کا مالک بنائے گا۔دنیاداروں کی نگاہ میں یہ بات دُور ازقیاس ہے۔مگر خدائے تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے۔ٔٔٔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍نومبر ۱۹۱۱ء) ۳۔ ۔: خدا تعالیٰ نے موت اور زندگی بنائی۔اس دنیا کو چھوڑنا اور پھر ہمیشہ