حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 109 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 109

گے بلکہ بہت ہی بُرے ہوں گے !! جہاں تک غور کرتے جاؤ۔انسان ترقی کرتا جاتا ہے! اسی اصول کے موافق وہ نیکیوں اور بدیوں میں بھی ترقی کرتا ہے اور رسم و رواج لباس وغیرہ امور میں ترقی ہوتی رہتی ہے۔ایک زمانہ تھا کہ مردوں کے پاجامے گلبدن کے ہوتے تھے اور وہ دوہری پگڑیاں پہنا کرتے تھے۔اور بھدّی تلواریں ہوتی تھیں اور کچھ بدنُما ڈھالیں۔مگر آج دیکھو کہ وہ طرزِ لباس ہی نہیں رہا۔ان تلواروں اور ڈھالوں کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اس اس قسم کی توپیں اور بندوقیں آئے دن ایجاد ہو رہی ہیں کہ دشمن اپنے ہی مقام پر ہلاک کر دیا جاتا ہے تو اُسے خبر ہوتی ہے! فنونِ حرب میں اس قدر ترقی ہوئی ہے کہ کچھ کہا نہیں جاتا۔میری غرض اس وقت زمانہ کی ایجادات اور فنون کی ترقیوں پر لیکچر دینا نہیں ہے۔بلکہ میں اس اصل کو تمہارے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ انسان ترقی کرتا ہے اور وہ جس حالت میں ہو۔اُس میں رہ نہیں سکتا۔غرض پھر اس حکومت کے دَور دَورہ میں جہاں اور ترقیاں ہوئیں۔لباس میں بھی ترقی ہونے لگی۔پھر اُلٹی وصع کی پگڑیوں کے بجائے پگڑیوں کا طور بدلا۔ٹوپیوں کا رواج شروع ہوا۔بال رکھتے تھے۔یہ سوچا کہ سر دھونے کی تکلیف ہوتی ہے۔بال چھوٹے کئے جاویں۔بالوں پر اثر پڑا۔پھر ڈاذھیوں کی صفائی شڑوع ہوئی پھر جوتوں کی طرف دیکھا کہ پرانی وضع کے جوتے بھدّے اور بدنما ہیں اس لئے ان میں ترمیم کرنی جاہیئے اور اس قسم کے ہونے چاہیئںجیسا کہ پاؤں کا نمونہ نیچر نے رکھا ہے۔پس بوٹ کی طرف توجہ ہوئی اور فرغل چغہ کی بجائے کوٹ نکلے۔یہاں تک توخیر تھی۔لباس سے آگے اثر شروع ہوا اور ایک تہ بند گزار کو نماز بھی چھوڑنی پڑی۔کیونکہ نماز پڑھنے میں ایک قیمتی پوشاک خراب ہوتی ہے۔وصو کرنے سے کالر اور نیکٹائی وغیرہ کا ستیاناس ہوتا ہے اور کفیں خراب ہو جاتی ہیں۔یہ انسان کی ترقی کی ایک بات ہے۔اور یہی معنے ہیں میرے نظر میں۔مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَمبنْھُمْ ! موجودہ زمانہ میں بھی اثر ہوا ہے۔قوم کی حالت اسی طرہ بگڑی ہے۔بعض کو فلسفہ نے تباہ کر دیا ہے وہ بعض اور مشکلات اور حالتوں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوئے۔میری طبیعت فلسفہ کو پسند کرتی ہے۔مگر اﷲ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے قرآن جیسا مجھے فلسفہ دیا اور پھر ایک اپنا امام مجھے عطا کیا ہے کہ جس کی قوّتِ قدسی اور تاثیر صحبت سے یہ فلسفہ مجھے بہت ہی عزیز اور کامل تر فلسفہ ملا۔میں نے دیکھا ہے کہ آجکل کے نوجوان جو انگریزی فلسفہ کی چند کتابیں پڑھتے ہیں جس پر بجائے خود بیسیوں نہیں سینکڑوں اعتراص ہیں۔بڑے فخر سے مِلْ۔سپنسَرْ کے نام لیتے ہیں اور ناز کرتے ہیں کہ پلیٹو نے فلسفہ میں یہ لکھا اور فیثا غورث نے یہ کہا ہے۔ان باتوں نے ان پر کچھ ایسا اثر کیا ہے کہ اب وہ