حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 110 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 110

مذہب پر ہنسی کرتے ہیں اور ا س کو ٹھٹھے میں اڑاتے ہیں۔مذہب کی حالت تو یوں بدتر ہوئی۔پھر سوسائٹی کی طرف دیکھو۔ادنیٰ سے اعلیٰ تک کو میں نے دیکھا ہے۔کہ جب ان سے کوئی بات پوچھو تو ان کے نزدیک گویا حرام ہے کسی مسلمان کا نام لینا۔وہ سوسائٹی کے اصولوں کو بیان کرتے ہوئے بڑے خوش ہوتے ہیں اور انگریزوں کے نام لیتے ہیں اور ان کی کتابوں کے حوالے دینے لگتے ہیں۔مختصر یہ کہ دنیا الگ معبود ہو رہی ہے۔حکومت کی طرف سے جو اثر ہو رہا ہے۔وہ ظاہر ہے۔بچّے یوں مبتلا ہیں۔مدارس میں مذہبی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں! اور مسلمان کر نہیں سکتے! گورنمنٹ برداشت نہیں کر سکتی کہ ہر مذہب کے معلّم مدرسوں میں اپنی گرہ سے قائم کرے۔کیونکہ مذہبی تعلیم دینا خود دمسلمانوں کا اپنا فرص ہے! اور اصل تو یہ ہے کہ خود مسلمانوں کی حالت ایسی ہے کہ جہاں جہاں انہوں نے بظاہر دینی تعلیم کا انتظام کیا بھی ہے، وہاں بھی یہ حالت ہے کہ دینی تعلیم اصل مقصد نہیں بلکہ دنیوی علوم کے ساتھ برائے نام ایسا رکھا گیا ہے! میں اپنے یہاں دیکھتا ہوں۔دوسرے مدرسوں کی نسبت یہاں دینیات کی طرف توجّہ ہے۔مگر مَیں نے دیکھا ہے کہ لڑکے مسجد میں بھی انگریزی کتابوں کے ہجے یاد کرتے رہتے ہیں! مجھے تعجّب ہی ہوا ہے۔عربی اور قرآن شریف کی طرف وہ توجہ نہیں پاتا ہوں جو انگریزی اور اس کے لوازمات کی طرف ہے۔غفلت جس قدر مسلمانوں پر سایہ کئے ہوئے ہے۔اس کا تو ذکر ہی نہ پوچھو۔اعمال میں یہ حالت ہے کہ گھر میں تو اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ ( الکوثر:۲)بھی گراں گزرتی ہے۔لیکن اگر امام ہوں تو سورۂ بقرۃ بھی کافی نہیں! حدود اﷲ میں یہ غفلت ہے کہ اپنی ہی سستی اور کمزوری سے تمام حدود اٹھ گئی ہیں۔کسی کو جھوٹ یا چوری یا دوسری خلاف ورزیوں کی سزا نہیں ملتی ہے! ان باتوں کا اگر ذکر نہ بھی کریں اور مختصر الفاظ میں کہیں تو یہ ہے کہ مذہب سے ناواقفی ہو گئی ہے۔مہذّب جماعت نے مذہب کا ذکر ہی خلافِ تہذیب سمجھ رکھا ہے۔مذہبی مباحثوں کو وہ اس قدر نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس کی کچھ حدّ ہی نہیں۔ان کی مجلس میں اگر اسلام یا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم یا قرآن کی نسبت سخت الفاظ میں حملے کئے جاویں تو ان کو سُن کر خاموش ہو رہنا اور کسی قسم کا جواب نہ دینا فراخ حوصلگی اور مرنج و مرنجاں کا ثبوت ہے۔وہ یہ کہتے ہیں۔کہ مذہب کا تعلق صرف دل سے ہے۔زبان سے یا اعمال سے یا مال سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے! جہاں تک نظر دوڑاؤ۔مخلوق کو عجیب حالت میں مبتلا پاؤ گے۔باوجود اس حالت کے ازادی یہاں تک ہے کہ شاکتِ مذہب کے متعلق تک بھی کتابیں شائع ہو گئی ہیں اور گُپت پرکاش کے نام سے ان کے