حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 108
میں پوچھتا ہوں۔اگر قرآن ہی کی ضرورت تھی تو پھر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعہ قرآن شریف کے آنے کی کیا حاجت تھی؟ کسی درخت کے ساتھ لٹکا لٹکایا مل جاتا۔اور قرآن شریف خود کیوں یہ قید لگاتا ہے۔وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَ یُزَکِّیْھِمْوغیرہ۔میں سج کہتا ہوں۔کہ معلّم اور مزکّی کے بدون قرآن شریف جیسے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلّم کے وقت غیر مفید ہوتا۔؟آج بھی غیر مفید ہوتا! خدا تعالیٰ نے ہمیشہ سے یہ طریق پسند فرمایا ہے۔کہ وہ انبیاء و مرسلین کے ذریعہ ہدایت بھیجتا ہے۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ ہدایت تو آجاوے مگر انبیاء و مرسلین نہ آئے ہوں! پس اس وقت جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں۔اور مختلف پہلوؤں سے میں نے دکھایا ہے۔ضرورتیں داعی ہو رہی ہیں کہ ایک مزکّی اور مطہّر انسان قرآن کریم کے حقائق و معارف بیان کر کے اس ہدایت کو لوگوں تک پہنچاوے۔جو قرآن شریف میں موجود ہے۔یہ کام اس کا ہے کہ وہ ہدایت کی اشاعت کرے! جب یہ ضرورت ثابت ہے تو پھر اس امر کا پتہ لگانا کچھ بھی مشکل نہیں ہو سکتا کہ وہ مزکّی آیا ہے یا نہیں؟ میں کہتا ہوں کہ وہ مزکّی آگیا! اب اس کی صداقت جانچنا باقی رہتا ہے! اس کے لئے قرآن شریف اور منہاجِ نبوّت کامل معیار ہے۔اس سے دیکھ لو۔اس کی سچائی خود بخود کُھل جاویگی اور عقلی دلائل نصوص قرآنیہ اورقرآنیہ اور حِدیثیہ اور تائیدات سے اسے شناخت کر لو۔کسوف و خسوف کا کس قدر عطیم الشان نشان موجود تھا مگر دیکھنے والوں میں سے سب نے فائدہ اٹھایا؟ ہرگز نہیں! اس کے پورا نہ ہونے سے پہلے تو اسے صحیح قرار دیتے تھے مگر جب وہ پورا ہو گیا۔تو روایت کی صحت میں شبہ کرنا شروع کر دیا۔حقیقت میں جب انسان تعصّب اور ضِد سے کام لیتا ہے اور ایک بات ماننی نہیں چاہتا تو اس کی بہت سی توجیہیں نکالتا ہے اور اپنے خیال کے موافق عُذرات تراش لیتا ہے۔چونکہ انسان کی قوتیں دن بدن آگے بڑھتی ہیں۔اس لئے وہخیالات ترقی کرتے جاتے ہیں۔دیکھو میں کل جس عمر کا انسان کی قوتیں دن بدن آگے بڑھتی ہیں۔اس لئے وہ کیالات ترقی کرتے جاتے ہیں۔دیکھو میں کل جس عمر کا تھا آج اُ سے ایک دن بڑا ہوں۔اسی طرہ دیکھ لو۔پچھلے حصۂ زندگانی پر جس قدر غور کرو گے اور جتنا پیچھے جاؤ گے۔امسی قدر تمہیں نمایاں فرق نظر آئے گا کہ کمزوری بڑھتی گئی ہے۔دیکھو پہلے بول نہ سکتا تھا۔پھر بولنے لگا اور اپنی مادری زبان میں کلام کرنے لگا اور پھر یہاں تک ترقی کی کہ اردو بولنے لگا اور پھر یوماً فیوماً اس میں بھی ترقی کی۔یہاں تک کہ اب اپنی زبان میں مسلسل دو چار فقرے بھی ادا نہیں کر سکتا۔ایک بار حضرت امام علیہ السلام نے مجھے پنجابی زبان میں وعظ کرنے کا حکم دیا۔میں دو چار فقروں کے بعد ہی پھر اردو بولنے لگا۔اسی طرح دیکھ لو کہ ہر صورت میں انسان ترقی کرتا ہے۔بچپن کے زمانہ میں جو کپڑے کام آتے تھے اور خوبصورت اور ٹھیک موزوں تھے۔آج میں ان کو نہیں پہن سکتا۔یہی نہیں کہ وہ میرے بدن پر نہیں آ سکیں