حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 100 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 100

چھوڑ رکھا ہے؟ ذرا عیسائیوں ہی کو دیکھو کہ کس کس رنگ میں اسلام پر حملہ ہے۔سفاکانوں کے ذریعہ اخباروں اور رسالوں کے ؟زریعہ ہفتہ وار۔روزانہ اور ماہواری ٹریکٹوں اور اشتہاروں کے ساتھ، فقیروں اور جوگیوں کے لباس میں۔مدرسوں اور کالجوں کے رنگ میں ،تاریخ اور فلسفہ کی شکل میں۔غرص کوئی پہلو نہیں جس سے اسلام پر حملہ نہ کیا جاتا ہو۔اﷲ تعالیٰ کی ذات پر وہ حملہ کہ بپتسمہ دیتے وقت کہا جاتا ہے۔واحد لاشریک باپ۔واحد لاشریک بیٹا واحد لاشریک روح القدس۔تین واحد لاشریک نہ کہو۔بلکہ ایک واحد لاشریک۔باپ قادر مطلق۔بیٹا قادر مطلق۔روح القدس قادر مطلق۔تین قادرِ مطلق نہ کہو بلکہ ایک قادرِ مطلق! باپ ازلی۔بیٹا ازلی۔روح القدس ازلی۔تینوں ازلی نہ کہو۔بلکہ ایک ازلی۔اب غور تو کرو کہ یہ توحید پاک پر کیسا خوفناک اور بیباک حملہ ہے۔یہ کیا اندھیر ہے۔اسی طرح اس کے اسماء افعال اور صفات پر مختلف پیرایوں اور صورتوں میں حملہ کیا جاتا ہے۔اور غرص، اسلام کو نابود کرنا ہے اب اس اختلاف کو کون دور کرے۔اور کون اس مرض کا مداوا کرے۔وہی جو مزکّی ہو۔مجھے نہایت ہی افسوس اور دردب دل کے ساتھ کہنا پڑتا ہے۔کہ عیسائیت کے اس پُرآشوب فتنہ کو فرو کرنے کی بجائے مسلمانوں نے مدد دی ہے۔اور اس آگ پر پانی کی بجائے تیل ڈال دینے کا کام کیا ہے۔جب اپنے عقائد میں ان امور کو داخل کر لیا جو عیسائیت کی تقویت کا موجب اور باعث ہوئے ہیں۔۱؎ یہ فیصلہ بالکل آسان اور صاف تھا۔اگر ذرا تدبّر اور غور سے کام لیا جاتا۔مگر رونا تو اسی بات کا ہے کہ عقل سے کوئی کام نہیں لیا جاتا۔خدا تعالیٰ کی مخلوق میں عور نہیں کیا جاتا۔یہ کیسی صاف ابت ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی مخلوق اور انسانی مخلوق کبھی برابر نہیں ہو سکتی۔یہ قاعدہ کُلیہ ہے کہ جو کچھ انسان بناتا ہے۔خدا وہ کبھی نہیں بناتا! اور جو اﷲ تعالیٰ بناتا ہے انسان وہ ہرگز نہیں بنا سکتا! مثلاً ایک تنکا ہی لو۔ساری دنیا کے صنّاع اور فلاسفر مل جاویں اور کوشش کریں۔ساری عمر جدّ وجہد کریں کبھی ممکن ہی نہیں کہ ایک تنکا بنا سکیں۔گھاس کا تنکا یا دانہ کا ذرّہ نہیں بنتا۔پھر یہ خیال کر لینا اور مان لینا کہ مسیح بھی خدا تعالیٰ جیسی مخلوق بنا سکتا تھا۔کیسی بے ہُودگی ہے۔دیکھو! خدا تعالیٰ کی مخلوق ہے۔غلّہ انسان نہیں بنا سکتا۔انسان اپنی صنعت سے روٹی بناتا ہے۔خدا تعالیٰ کی غیرت کبھی پسند نہیں کر سکتی۔کہ وہ درختوں سے روٹیاں نکالے۔کپڑے خدا تعالیٰ نے نہیں بنائے اسی طرح رُوئی انسان نہیں بنا سکتا۔۱؎ الحکم۲۴؍نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۹ تا ۱۰