حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 99
میرے اس سوال کا جواب کسی نے نہیں دیا۔اور حقیقت بھی یہی ہے۔کیا مَعَاذَ اﷲِ قرآن شریف موم کی ناک ہے کہ جدھر چاہے پھیر دی یا وہ اپنے اس دعوٰی میں معاذ اﷲ سجا نہیں جو اس نے اختلاف مٹانے کا کیا ہے؟ پھر یہ ایمان کیوں رکھتے ہو۔میری سُنو! قرآن شریف آیاتِ محکمات ہے۔وہ لاریب اختلاف مٹانے کے لئے حَکَم ہے مگر اس پر مسلمانوں نے توجّہ نہیں کی اور اس کو چھوڑ دیا۔وہ اپنی نزاعوں کو قرآن شریف کے سامنے عرض نہیں کرتے۔مجھے ایک بار لاہور کے شیعوں کے محّلہ میں وعظ کرنے کا اتفاق ہوا۔میں نے کہا شیعوں سنّیوں کے اختلاف کا قرآن سے فیصلہ ہو سکتا تھا۔اگرجہ توجّہ کرتے۔ایک شخص نے کہا کہ وہ قرآن سے ہی استدلال کرتے ہیں۔میں نے کہا کہ یہ قرآن موجود ہے۔آپ ہی بتا دیں کہ کہاں سے استدلال کیا ہے۔غرض قرآن کو ہرگز حکم اور فیصلہ کُن نہیں مانتے۔اگر اس پر ایمان ہوتا تو بڑی صفائی سے یہ بات سمجھ میں آجاتی کہ سچّی توجّہ کے لئے ایک کامل الایمان مزکّی اور مطہّرکی ضرورت ہے جو اپنی قدسی قوّت کے اثر سے دلوں کے زنگ کو دُور کرے۔بدوں مزکّی کے یہ بات حاصل نہیں ہو سکتی! اور یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ سمجھ میں نہ آسکے۔بلکہ وسیع نظارۂ قدرت میں اس کے نطائر موجود ہیں! دیکھو! ایک درخت کی ٹہنی جب تک درخت کے ساتھ پیوند رکھتی ہے۔وہ سر سبز ہوتی ہے۔حالانکہ اس کو جو پانی کی غذائیت ملتی ہے۔وہ بہت ہی کم ہوتی ہے۔اب اگر اس کو دیکھ کر ایک نادان اس کو کاٹ کر پانی کے ایک گڑھے میں ڈال دے کہ لے تو اب جس قدر پانی چاہے جذب کر اور اپنے دل میں خوش ہو کہ یہ بہت جلد بارآور ہو جائے گی۔اور اس کو بتادے گی کہ میں سرسبز نہیں رہ سکتی۔اس درکت سے الگ ہو کر! اسی طرح یہ نظارۂ قدرت عام اور وسیع ہے۔اس سے صاف سبق ملتا ہے کہ مزکّی کی ضرورت ہے جس کے ساتھ پیوند لگا کر انسان اپنے تزکیہ کا حصّہ لے سکتا ہے۔ورنہ مزکّی سے الگ رہ کر کوئی یہ دعوٰی کرے کہ وہ اپنی اصلاہ اور تزکیہ کرے گا۔یہ غلط ہے اور محض غلط ہے بلکہ ع ایں خیال است و محال است و جنوں اور وہی مشکلے دارم کا سچّا مسئلہ۔اندرونی اختلاف اور تفرقہ اگر کجھ ایسا نہ تھہ کہ اس کے دل پر اثر انداز ہو سکتا۔اور اس کو صرف جزئی اکتلاف قرار دیتا تھا تو پھر صرور تھا کہ غیر قوموں کے اعتراضوں ہی کو دیکھتا جو اسلام پر کئے جاتے ہیں اور دیکھتا کہ وہ کون سا ذریعہ ہے جو اسلام کے نابود کرنے اور اس پر اعتراض کر کے اس کو مشکوک بنانے میں غیر قوموں نے