حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 101
اس سے کیمیاگروں کی حماقت اور فریب کا ایک ثبوت ملتا ہے اور کس طرح واضح طور پر ان کی تکذیب ہوتی ہے۔سونا چاندی اور جاندی سونا نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْیئٌ (الشورٰی:۱۲کیا کوئی ہاتھی کے بچہ کو چُوہا کہہ سکتا ہے؟ اور کیا ہو سکتا ہے کہ مکھّی کے انڈے سے گھوڑا نکل آوے؟ ان امور کا سمجھنا آسان۔گویہ بدیہی باتیں ہیں مگر ایک مزکّی جب تک موجود نہ ہو۔وہ انسان کو اس قسم کے شرک سے نجات نہیں دے سکتا۔ایک وقت آئے گا کہ لوگ کہیں گے کہ کیا وفاتِ مسیحؑ کا مسئلہ بھی کوئی اہم مسئلہ تھا لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی اہمیت کس قدر ہے؟ ایک دنیا کو اس نے تباہ کر دیا ہے۔اور ربّ العالمین کے عرش پر ایک عاجز ناتواں انسان کو بٹھایا گیا ہے۔غرض اﷲ تعالیٰ کے اسماء ، صفات اور افعال کے متعلق سچا علم بخشنااُس شخص کا کام ہوتا ہے۔جو آیات اﷲ کی تلاوت کرے اور اپنی قدسی تاثیر سے تزکیہ کرے اور سجی توحید پر قائم کرے۔جب تک مزکّی نہ ہو یہ سمجھ میں نہیں ا سکتا کہ اس جہان کا پیدا کرنے والا ربّ العٰلمین ایک ہے۔اور اس کا کوئی بیٹا نہیں جس کے بغیر نجات عالم ہی نہ ہو سکتی ہو جیسا کہ عیسائیوں نے مان رکھا ہے تعجّب ہے کہ وہ خلق عالم تواﷲ تعالیٰ کی صفت مانتے ہیں۔پھر اس مخلوقِ عالم کو کیا مشکل تھا کہ نجات بھی دے دیتا؟ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ چونکہ عادل ہے اس لئے مخلوق کے گناہوں کو بحیثیت عادل ہونے کے بغیر سزا کے نہیں چھوڑ سکتا تھا اور رحیم بھی ہے۔اس لئے بیٹے کو پھانسی دیا۔یہ کیا خوب عدل اور رحم ہے کہ گناہ گاروں کے بدلے ایک بے گناہ کو پکڑ لیا اور بے گناہ پر رحم بھی نہ کیا۔پھر اور بھی ایک تعجب ہے کہ یہودیوں کو نجات نہ ملی۔حالانکہ پہلے نجات کے وہی مستحق تھے جنہوں نے نجات کے فعل کی تکمیل کی کوشش کی یعنی صلیب دلوانے کی۔ان کا فعل تو گویا عیسائیوں کے اعتقاد کے موافق خدا کے ارادہ اور منشا سے توارُد رکھتا تھا۔پھر وہ غضب کے نیچے کیوں رہے؟ پھر ہم پوچھتے ہیں کہ کیا مسلمانوں کو نجات ملی،کیا مجوسیوں کو ملی، کس کو ملی؟ نجات تو پھر بھی محدود ہی رہی۔کیا فائدہ اس پھانسی سے پہنجا؟ تو پھر شیطان کا سر جب کچلا گیا تو اب کیوں گناہ ہوتا ہے؟ پھر پوچھا گیا ہے کہ گناہ کا بد اثر جسم پر ہوتا ہے یا روح پر۔اگر روح پر ہوتا ہے تو آدم سے کہا گیا کہ محنت سے روٹی کھائے گا۔اور عورت دردِزِہ سے بچہ جنے گی۔اور اگر جسم پر پڑتا ہے تو عیسائی آتشک اور سوزاک وغیرہ امراض میں کیوں مبتلا ہوتے ہیں اور کیا عیسائی