حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 95 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 95

: یعنی ملک کے علاوہ تمہارے مذہب کو بھی برباد کرنے پر تُلا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۷) ۶۶،۶۷۔   : صوفیاء نے لکھا ہے۔یہ ادب ان کے کام آیا اور وہ مسلمان ہو گئے۔: حِبال وعَصیّ کے رنگ میں جو کچھ تدابیر جمع کر رکھی تھیں۔وہ لوگوں کو ایسا خیال پڑتی ہیں کہ وہ مظفر و منصور ہونے میں سعی کر رہی ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۷) ان کی رسّیاں اور سونٹے قوّتِ متخیّلہ کو چلتے معلوم ہوتے تھے… (یعنی) انکے رسّے اور ڈنڈے ان کے واہموں اور تخیّلوں کو چلتے نظر آئے اور ساحروں نے عام لوگوں کو دھوکے میں ڈالا اور ڈرانا چاہا اور بڑا دھوکہ کیا۔یہ نظارہ قانونِ قدرت اور سائنس کے نزدیک ایسا واقعی اور صاف ہے کہ بڑی تشریح کی بھی ضرورت نہیں… ساحروں کے سحر یعنی دھوکے بازوں کے ڈھکو سلے جہاں غیر واقعی طور پر اپنا جلوہ دکھاتے ہیں وہاں بڑے مرتاض۔یوگی۔جنّ۔اور ان سب سے برتر جنابِ الہٰی سے مؤید و منصور قوم انبیاء و رسل اور ان کے مخلص اتباع کی حقیقت بھرے آیات و معجزات دھوکے باز وںکے جھوٹ اور افتراء کو تباہ کر کے واقعات کا اظہار دنیا پر کر دیتے ہیں۔(نور الدّین صفحہ ۱۵۴۔۱۵۵) ۶۸،۶۹۔  : یہ ڈر نہیں تھا کہ ہم پر غالب ہو جائیں گے یا خدا کا دین باطل ہو جائے گا۔بلکہ انبیاء کو اس بات کا ڈر ہوتا ہے۔کہ لوگ کم فہمی سے ابتلاء میں پڑ کر دینِ حق سے محروم ہو جاویں گے۔حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کیلئے بھی