حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 94
کا خیال نہیں ہوتا۔اور یہ بات چونکہ مجھ پر گزری ہے۔اس لئے اسے خوب سمجھتا ہوں۔حضرت موسیٰ کو جنابِ الہٰی میں سے ارشاد ہوتا ہے کہ تم کو رسالت دی گئی۔فرعون کی طرف جاؤ۔مگر آپ ہیں عرض کیے جاتے ہیںکہ میرا بھائی ہارون (القصص:۳۵) اگر قلب کے کسی گوشہ میں ذرا بھی نبی بننے کی خواہش ہوتی تو ایسا کبھی نہ فرماتے۔(بدر۲۴؍اگست ۱۹۱۱ء صفحہ۴) : وہ مکان میرے اور آپ کیلئے مساوات کا رنگ رکھتا ہو۔یعنی میری وجاہت اور آپ کی غربت کا فرق نہ رہے۔یہ بات فرعون کی فراخ حوصلگی پر دال ہے۔ایک طرف اپنی قوم کو بھڑکاتا ہے اور دوسری طرف یہ منصفانہ بات! مسلمانوں کو مباحثات میں ایسی باتوں کا خیال چاہیئے مگر افسوس کہ وہ بہت تنگ دل ہیں حالانکہ نبی کریم صلی اﷲعلیہ و آلہٖ وسلم نے نجران کے عیسائیوں کو بھی مسجد میں گرجا کر لینے کی اجازت دی تھی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۷) ۶۰،۶۱۔ : حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے بھی مکّہ کو ماہِ رمضان میں عید کے قریب ضحٰی کے وقت فتح کیا۔اور مکّہ کی نسبت (الحج:۲۶) آ چکا ہے۔یہ قصّہ گویا پیشگوئی کے رنگ میں ہے۔: ہر قسم کی تدابیر جو اپنی فتح مندی کیلئے کر سکتا تھا۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے ایک غزوہ میں پوچھا ہے کہ مََاتَکِیْدُوْنَ تو اس کا جواب دیا گیا کہ ہم خندق کھو دیں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۷) ۶۴۔