حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 525 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 525

 اﷲ تعالیٰ کے مامور اور مرسل اور مومن اسی دنیا میں اﷲ تعالیٰ کی تائیدات سے حصّہ لیتے ہیں اور یہ نصرت عجیب عجیب طور پر اپنا ظہور کرتی ہے کیونکہ اس نصرت سے اﷲ کی ہستی کا ثبوت مامور من اﷲ کی صداقت اور اﷲ کے دوسرے وعدوں کی تصدیق کی ایک دلیل ہوتی ہے اور ایک عظیم الشان حجّت ہوتی ہے جو خدا کی طرف سے قائم کی جاتی ہے۔کیا خوب فرمایا ہے۔خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے جب آتی ہے تو پھرعالم کو اک عالم دکھاتی ہے کبھی وہ خاک ہو کر دشمنوں کے سر پہ پڑتی ہے کبھی ہوتی ہے آگ اور ہر مخالف کو جلاتی ہے غرض رُکتے نہیں ہرگز خدا کے کام بندوں سے بھلا خالق کے آگے خلق کی کچھ پیش جاتی ہے پھر میں تمہیں کہتا ہوں کہ اگر تم اﷲ کی نصرت چاہتے ہو۔اُسے سپر بنانا چاہتے ہو تو جس نے سپر بنانے کا نمونہ اپنی عملی زندگی سے دکھایا ہے اس کے نیچے آؤ اور اس کے رنگ میں رنگین ہو جاؤ۔(الحکم ۳۱؍جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ۶) ہم ضرور کامیاب کرتے ہیں اپنے رسولوں اور مومنوں کو دنیا کی زندگی میں اور پیش ہونے والوں کے پیش ہونے کے دن میں۔(نورالدّین طبع سوم صفحہ۱۹۸) حضرت امام حسین کربلا میں شہید ہوئے۔یہ کے خلاف نہیں۔موت تو سبھی کو آتی ہے دیکھنا یہ ہے کہ دنیا میں معزّز و مکرّم کون ہے وہ جس کی نسل کا بچہ پیدا ہوتے ہی سیّد سردار کا لقب پاتا ہے۔یا وہ جس کے نام پر کوئی اپنا نام بھی نہیں رکھتا۔اور نہ کوئی مانتا ہے۔کہ میں اس کی نسل سے ہوں۔جس کے نام کا تصوّر قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات کے پڑھتے ہوئے بھی آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔(محمدؐ:۲۳) (بقرہ:۲۰۶) (تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۴ صفحہ۱۷۵۔۱۷۶ ماہ اپریل ۱۹۱۲ء) جو شخص اپنی خواہشوں کو خدا کی رضا کیلئے نہیں چھوڑتا تو خدا بھی اس کیلئے پسند نہیں کرتا۔جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔حصرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کیسے دشمن موجود تھے مگر وہ خدا جس نے فرمایا۔اس نے سب پر فتح دی صلح حدیبیہ میں ایک شخص نے آ کر کہا۔تم اپنے بھائیوں کا جتھا نہ چھوڑو۔ایک ہی حملہ میں یہ سب تمہارے پاس بیٹھنے والے بھاگ جائیں گے۔اس پر صحابہؓ سے ایک خطرناک آواز سنی۔اور وہ ہکّا بکّا رہ گیا۔یہ حضرت نبی کریمؐ کے اﷲ کے حضور بار بار جان قربان کرنے کا نتیجہ تھا۔کہ ایسے جاں نثار مرید تھے۔آخر وہ