حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 524
دو میں سے ایک واقعہ نے دنیا میں اپنی خبر کے مطابق ظہور کیا۔پس اسی مناسبت سے دُوسری خبر جو اسی کے ساتھ ہے۔اپنے واقعہ کے ساتھ ضرور ظہور پذیر ہو گی۔فرعون و موسٰی علیہ السلام کے مابین جنگ ہو رہی ہے۔ایک طرف ایک طاقت ور بادشاہ ہے جو مدّ مقابل کو کہتا ہے۔تو ہمارا نمک پروردہ اور تیری تمام قوم ہماری غلام ہے۔ان دونوں کے درمیان الہٰی نصرت کا وعدہ ہوتا ہے۔کہ موسٰیؑ ان کی تمام شرارتوں سے محفوظ رہیں گے اور فرعونی بالکل غرق ہو کر عذاب آخرت کے مستحق ہوں گے۔…(المومن:۴۶،۴۷)پھر دیکھ لو ان تینوں علوم نے کیسی زبردست قوّت سے قیامت کو ثابت و محکم کر دیاہے۔(نورالدّین طبع سوم صفحہ ۳۳۔۳۴) ساری خلقت جو میری نگاہ سے بذریعہ علم۔کتاب۔سماع۔مشاہدہ گزری ہے وہ یہی چاہتی ہے کہ میں جیت جاؤں اور مجھے نصرت ملے۔لوگ اپنے ننگ و ناموس کے قیام کیلئے جانوں تک بے دریغ نثار کر دیتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ اس فطرت کے تقاضا پر فرماتا ہے۔۔اس ورلی زندگی میں رسولوں اور مومنوں کی نصرت کریں گے۔تاریخ اس وعدہ کے ایفا اور اس نشان کی صداقت کی شہادت دیتی ہے۔حضرت نوح علیہ السلام کا ہی معاملہ دیکھو کہ آخرکار آپ ہی سلامت و مامون رہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقابلہ میں مجوس تھے۔مگر اس سب سے بڑے مخالف نمرود کا کچھ نشان نہیں۔مؤرخین اس کے بارہ میں بحث کرتے ہیں کہ آیا وہ تھا بھی یا نہیں۔تھا تو کون؟ اسی طرح حضرت موسٰیؑ حضرت مسیحؑ کے دشمنوں کا حال ہوا۔پھر جناب نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کا نام رہ گیا اور کس عزّت سے لیا جاتا ہے۔امام حسین رضی اﷲ عنہ کی اولاد تو ہر جگہ پائی جاتی ہے۔مگر یزید کی نسل میں سے ہونا تو درکنار اس کا ہم نام بھی کوئی کہلانا نہیں چاہتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۸؍دسمبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۹) کس قدر خوشی اور امید کا مقام ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی نصرت اور تائید اسی دنیا میں بھی ملتی ہے اور اس دنیا میں نصرت اور تائید الہٰی کا ملنا آخرت کی نصرت پر ایک قوی دلیل ہے۔اور پھر یہ بھی کہ یہ نصرت اور تائید ہر مومن مخلص کو ملتی ہے۔اگر صرف انبیاء علیھم السلام کے ساتھ یہ مخصوص ہوتی تو البتّہ عام مومنوں کیلئے کس قدر دل شکن بات ہو سکتی تھی۔مگر خدا کا کس قدر احسان ہے کہ فرما دیا ہے