حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 491
: اپنے سواری کے جانور کو ایڑی مارو۔جلدی چلاؤ اور پانی کے چشمہ پر پہنچ جاؤ۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۸ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) حضرت ایوّب کے صبر کا بیان کیا ہے۔انبیاء علیہم السلام خدا کے حضور بڑے ادب سے کام لیتے ہیں وہ کسی دُکھ کو اس کی طرف منسوب نہیں کرتے۔جب وہ خدا کے حضور اپنی تکالیف کے متعلق گڑ گڑائے تو ارشاد ہوا۔۔اپنی سواری کو اس سر زمین کی طرف لے چل جہاں آپ کیلئے آرام کے سامان مہیّا ہیں اور وہاں اہل و عیال اور احباب اس کی مثل دئے جائیں گے۔اور اپنی سواری کو درخت کی ایسی شاخوں سے جس کے ساتھ پتّے بھی ہوں چلائے جا۔مگر اسے ضرر نہ پہنچا۔یہ دراصل ایک پیشگوئی تھی۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے بھی ایسا ہی معاملہ پیش آنے والا تھا۔چنانچہ آپؐ نے بھی مکّہ سے ہجرت فرمائی اور مدینہ منورّہ تشریف لے گئے۔جہاں آپؐ نے بہت سے اہل اور وفادار احباب پائے۔اب بھی جو خدا کی راہ میں ہجرت کرے۔اس کیلئے امن و آسائش بموجب وعدۂ الہٰی(النّساء:۱۰۱) موجود ہے اور ہرگز خیال نہ کرے کہ اگر میں اپنا گھر یا اپنے رشتہ دار چھوڑ کر جاؤں گا تو نقصان اٹھاؤں گا۔خدا تعالیٰ ایسے شخص کو بہتر سے بہتر احباب اصحاب اور رشتہ دار دے گا۔(تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۲ صفحہ۸۸ماہ فروری ۱۹۱۲ء) ۴۴،۴۵۔ : دو چار دس پانچ پتلی پتلی قمچیاں۔جس میں پتّے بھی آخر پر ہوں۔ان کو ایک جگہ کرنا۔مثلاً جھاڑو۔(ضمیمہ اخباربدر قادیان ۱۷؍نومبر۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۵ ) یہ سورۃ مکّی ہے۔اشارہ بہ ہجرت۔چنانچہ آپؐ کو مدینہ میں مکّہ کی بی بی کے علاوہ مدینہ میں اور بیبیاں بھی دلادیں۔: مٹھا ٹہنیوں کا۔: مار جانور کو ( اور جلدی پہنچو)