حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 490
ہے اور تبرّے کے یہ اب تک شروع سے عادی ہیں۔تبرّے بازی کی اٹکل سیکھنی ہو تو ان سے سیکھے۔وقائع نعمت خان کو دیکھو جس کا نمک کھایا ہے اسی کے حق میں کہیں گالیاں ہیں۔خافی خان تو ہنساتا بھی جاتا ہے۔اور تبرّا بھی۔مؤرخ جب شیعہ ہوتا ہے۔تو وہ سنیّوں کی خوب خبر لیتا ہے۔تاریخوں میں بڑے عبرت کے مقام ہوتے ہیں۔سینکڑوں جلدیں مطالعہ کر جاؤ۔بعض اوقات سمجھنے میں بڑی مشکل ہوتی ہے۔دوسرا حصّہ جو بہت نیک حصّہ تھا۔میں نے علمِ حدیث میں حَدَّثَنَا مَالِکٌ۔حَدَّثَنَا فُلَانٌ وغیرہ پڑھا۔ہمارے یہاں بہت سے شخصوں نے اس کو چھوڑ کر عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ پڑھانا شروع کر دیا۔اس سے مدعا یہ تھا کہ ان راویوں کی پرہیزگاری اور تقویٰ اور پاک نمونوں کی اتباع ہو جو اس سلسلہ اسناد میں بیان کئے جائیں لیکن ہمارے ملک میں اس قدر نہ استادوں کو فرصت ہے اور نہ شاگردوں کو۔میں نے بعض اوقات بڑے بڑے استادوں سے دریافت کیا ہے کہ اسناد کے سلسلہ کی کتابوں میں سے پانچ مستند کتابوں کا صرف نام تو لے دو۔تو نہ لے سکے۔تیسری بات قرآن کریم۔قرآن کریم میں بہت سے انبیاء کا ذکر موجود ہے۔لوگ جھگڑے کرتے ہیں کہ خضرؔ۔آدم۔لقمان بھی تھے یا نہ تھے۔حالانکہ اس بحث کی ضرورت ہی کیا ہے۔اس شخص کی باتیں جو قرآن کریم نے خوبی کے طور پر بیان کی ہیں۔ہم کو چاہیئے کہ ان باتوں پر عمل کریں۔ایک شخص نے سورۂ یوسف میں بیان کیا ہے۔کہ عشق و حسن تو خدا تعالیٰ کو بھی پسند ہے۔اَحْسَنَ القَصَصِ میں قصص۔ق کی زیر سے قصّہ کی جمع نہیں ہے۔جمع در اصل ق کی زبرسے ہے۔سورۂ یوسف میں دراصل بیان ہے۔کہ ایک نوجوان آدمی گھر کی سردار عورت سے کس طرح برتاؤ کرے۔کس طرح صبر کرے۔کس طرح سلوک کرے۔قرآن کریم ہر موقع پر اس قسم کی نصائح بیان فرماتا ہے۔مسلمانوں نے قرآن کریم کے بیانات کی تاریخ نہیں رکھی۔حضرت ایوّب کے قصّہ میں خداوند تعالیٰ نے حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو ایک خطرناک سفر سے اطلاع دی ہے۔ یاد کرو ہمارے ایک بندے کو جس کا نام ایوب تھا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۷؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۵) حضرت ایوّبؑ کسی سفر میں گئے تھے۔مَسَّنِیَ الشَیْطٰنُ۔کسی تکلیف کی شکایت کی۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۸ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء)