حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 447
۱۶۔ : امیر سے امیر انسان اﷲ تعالیٰ کا محتاج ہے۔ایک دم کا ایسا احتیاج ہے کہ یہ زندگی و موت کا سوال ہے۔اور پھر احتیاج بھی عجیب طور پر ہے کہ ایک طرف سے ہوا کے داخل ہونے کا احتیاج ہے تو دوسری طرف ہوا کے خارج ہونے کا۔ایک طرف پانی پینے کا احتیاج ہے۔تو دوسری طرف اس کے اخراج کی حاجت ہے۔انسان حق کا بھی محتاج ہے۔اور حق کے علم پر عمل کرنے کیلئے توفیق کے حصول کا بھی ایسا ہی محتاج ہے۔اگر خدا کا فضل نہ ہو تو بڑے بڑے عالم فسق و فجور میں مبتلا ہو جاویں۔بے ریب انسان اپنا خالق آپ نہیں۔نہ اس کے ماں باپ اور اس کے خویش و اقارب نے جو اسی کی استعداد کے قریب قریب ہیں اس کو گھڑ کر درست کیا۔اپنی بدصورتی کو حسن سے بدلا نہیں سکتا۔اپنی طول و عرض پر متصرّفانہ دخل نہیں رکھتا۔معلوم نہیں کتنی مدّت سے چھُری لے کر اپنا پوسٹ مارٹم کر رہا ہے۔پر اس غریب کو اپنے بدن کے عجائبات کا بھی آج تک پتہ نہ لگا۔مائیکرو سکوپ ایجاد کر کے کہتے ہیں پچھلوں نے پہلوں سے سبقت لی۔مگر عجائبات انسانی پر اور بھی حیرانی حاصل کی۔افعال الاعضاء کے محقّق اور کیمیاگر اب تک کتابِ قدرت کے طفل ابجدخواں ہیں۔صوفی۔یوگی۔الہٰیات۔اخلاق۔طبعی والے قویٰ انسانیہ کا بیان کرتے کرتے تھک گئے۔مگر احاطۂ علمِ الہٰی سے قطعاً محروم چل دئے۔اچھے فلاسفروں اور نیکوکار عقلاء کے گھروں میں ایسے جاہل کندہ ناتراش پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے مربیّوں کی عمدہ عقل کو چرخ دے دیا۔اور وہ بیچارے کفِ افسوس ملتے رہ گئے۔اور ان سے کچھ بھی نہ ہو سکا کہ اپنے اخلاقی اِرث سے انہیں تھوڑا سابہرہ مند کر جاتے۔بڑے بڑے مدبّر اپنے عندیہ میں تدابیر کے ہر پہلو پر لحاظ کر کے مناسب وقت اور عین موافق لوازم کو مہیّا کرتے ہیں۔پھر نتائج سے محروم ہو کر اپنی کم علمی پر افسوس مگر قانونِ قدرت کے مستحکم انتظام کو دیکھ کر ہمہ قدرت ذات پاک کا لابدّاقرار کرتے ہیں۔سلیم الفطرت دانا جب تمام اپنے ارد گرد کی مخلوق کو بے نقص کمال ترتیب۔اعلیٰ درجہ کی عمدگی پرپاتے ہیں۔ضرور بے تابی سے ایک علیم و خبیر قادر کے وجود پر گواہی دیتے ہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۱۴۷،۱۴۸) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍اکتوبر ۱۹۱۰ء)