حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 448 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 448

۲۵۔  یہودی اﷲ تعالیٰ کو جامع صفاتِ کاملہ یقین کرتے ہیں۔پر اس کی روحانی تربیت کیلئے ایک ہی یونیورسٹی یروشلم جیسے آریہ ورت ہی کو آریہ لوگ یقین کرتے ہیں اور ایک ہی قوم کیلئے خدا کی فرزندی کو محدود کرتے ہیں اور کہتے ہیں۔انبیاء اور خدا کی طرف سے منذر ایک ہی قوم بنی اسرائیل سے پیدا ہوئے۔گویا عموم رحمتِ الہٰیہ کے قائل نہیں۔قربان جایئے قرآن شریف کے جو فرماتا ہے۔: اور کوئی فرقہ نہیں جس میں نہیں ہو چکا کوئی ڈرانے والا۔فائدہ: اسلامی عقائد میں یہ امر ضروری التسلیم ہے کہ سب انبیاء و رسل پر ایمان لایا جاوے جو قوموں کے نذیر گزرے اور اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نبی اور رسول ہو کر آئے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۲۹۔۳۰) کل دنیا میں منذرین کا آنا تسلیم فرمایا۔اور انصاف سے مذاہب پر کلّی انکار نہیں کیا بلکہ تمام انبیاء و رسل پر یقین کرنا اور ان پر ایمان لانا سکھایا اور فرمایا۔: تمام اُمّتوں میں نافرمانوں کو ڈر سنانے والے گزر چکے ہیں۔(تصدیق براہینِ احمدیہ صفحہ۲۸۴) یہ ایک ضروری بات ہے جو یاد رکھنے کے قابل ہے۔قرآن کریم میں جس قدر قصص مذکور ہوئے ہیں اُن نبیوں کے ہیں جہاں جہاں نبی کریمؐ نے اور آپؐ کے صحابہ کرامؓ نے پہنچنا تھا۔اور یہ بات ایسی خصوصیات کیلئے ہے ورنہ قرآن کریم تو صاف فرماتا ہے کہ یعنی کوئی امّت ایسی نہیں جس میں خدا کی طرف سے ایک ڈرانے والا نہ آیا ہو۔ایک طرف تو یہ حال ہے کہ کوئی قوم اور کوئی بستی نہیں جس میں اﷲ تعالیٰ کا مامور نہ آیا ہو۔دوسری طرف بہت سے ایسے رسول بھی ہو گزرے ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں نہیں فرمایا۔تو ایک غور طلب بات ہے کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن کریم انبیاء علیہم السلام کے ذکر کو بیس اور تیس کے اندر محدود کرتا ہے۔مجھے یہ بات بتلائی گئی ہے کہ ان ہی نبیوں کا ذکر قرآن نے فرمایا ہے جن کے بلاد میں نافرمانوں اور فرماں برداروں کے نشانات صحابہ کرام کیلئے موجود ہیں اور جہاں پیغمبرِ خدا نے کامیابی حاصل کرنی تھی۔اور صحابہ کرامؓ نے دیکھ لینا تھا۔لِیَھْلِکَ